تل ابیب، 28 اگست (یو این آئی) فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے مرکز کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، اس وقت تقریباً 370 فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
ان بچوں کی اکثریت میگیدو اور عوفر جیلوں میں بند ہے۔ حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے اس گروپ نے بتایا کہ اگست کے آغاز تک اسرائیل کی جانب سے قید کیے گئے 9,400 سے زائد فلسطینی قیدیوں اور حراستی متبادلوں میں یہ بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی افواج نے سال 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں 276 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی بچوں کو حراست میں لینا اب محض انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں گرفتاریوں کی مہم کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے انتظامی حراست کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی توجہ دلائی گئی ہے، جو فلسطینیوں کو بغیر کسی جرم کے یا بغیر کسی عدالتی کارروائی کے اور غیر اعلانیہ شواہد کی بنیاد پر ایسی مدت کے لیے حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے جس میں بار بار توسیع کی جا سکتی ہے۔ فلسطینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی بار اسرائیلی حکام پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کم عمر بچوں سمیت دیگر قیدیوں کو انتہائی سخت حالات میں رکھتے ہیں اور انہیں مناسب خوراک اور طبی دیکھ بھال فراہم نہیں کرتے۔










