اسکو، 27 اگست (یو این آئی) روس نے یوکرین کو بڑھتی ہوئی حمایت کے درمیان برطانیہ اور فرانس کو سخت تنبیہ کی ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک "آگ سے کھیل رہے ہیں” اور خطرناک جوابی کارروائی کی تنبیہ کی ہے، ساتھ ہی یوکرین کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر فوجی ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
یہ تنبیہ لندن کی جانب سے کیو کو ایسی خفیہ ٹیکنالوجی دینے کے منصوبے کے اعلان کے بعد آئی ہے، جس سے وہ اسٹارم شیڈوطویل فاصلے تک مار کرنے والی کروز میزائلوں کی گھریلو پیداوار شروع کر سکے گا۔
دی گارڈین کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروا نے جمعرات کو برطانیہ اور فرانس پر آگ سے کھیلنے” کا الزام لگایا۔ اس سے یوکرین کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کی مغربی کوششوں کو لے کر ماسکو کی بڑھتی ہوئی تشویش کا اشارہ ملتا ہے۔
یہ تبصرے ان خبروں کے بعد بھی آئے جن میں کہا گیا تھا کہ سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اس ہفتے کی شروعات میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روسی حکام کو خبردار کیا تھا کہ وہ اتحاد کے کسی رکن کے خلاف محدود فوجی آپریشن چلا کر ناٹو کے عزم کا امتحان نہ لیں۔دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تنبیہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے اس اندازے پر مبنی ہے کہ ماسکو کسی ناٹو ملک پر محدود حملے پر غور کر سکتا ہے۔ اس میں سائبر حملہ یا چھوٹے پیمانے پر فوجی گھس بیٹھ شامل ہو سکتی ہے، جو شاید بالٹک ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف ہو۔
کریملن نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ روس فوجی طور پر ناٹو کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ساتھ ہی، کریملن نے ریٹکلف کے دورے کو لے کر لگائی جا رہی اٹکلوں کو بھی کم اہم قرار دیا ہے۔ سی آئی اے ڈائریکٹر کے دورے کے بارے میں پوچھے جانے پر، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان خبروں کو "ڈراؤنی باتیں” قرار دیا اور کہا کہ ان کا "حقیقت یا روسی فیڈریشن کے ارادوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے”۔
اس کے باوجود، ریٹکلف اور روسی حکام کے درمیان ہوئی مبینہ ملاقات نے مغربی ممالک کے دارالحکومتوں اور ماسکو، دونوں ہی جگہوں پر اٹکلوں کو ہوا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اس دورے کو "کافی حد تک معمول کے مطابق” بتایا، جبکہ واشنگٹن اور ماسکو، دونوں نے ہی اس کی اہمیت کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔










