واشنگٹن، 27 اگست (یو این آئی) امریکہ نے انتہائی بائیں بازو کی پرتشدد دہشت گردی کی حمایت یا اسے سہولت فراہم کرنے کے الزام میں تین تنظیموں اور دو افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ان پابندیوں کا نشانہ اٹلی اور برطانیہ میں قائم تنظیموں کے علاوہ ایک بین الاقوامی نیٹ ورک بھی بنا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس نے اٹلی میں قائم آٹیسٹیچی/انویینتاتی (Autistici/Inventati)، برطانیہ میں قائم فلسطین ایکشن (Palestine Action) اور مسار بدیل (Masar Badil) پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
واشنگٹن کے مطابق مسار بدیل، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP) کے لیے ایک فرنٹ تنظیم ہے، جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق مسار بدیل کے دو رہنماؤں روا السغیر اور زید عبدالناصر کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد ان بین الاقوامی نیٹ ورکس کو روکنا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی تشدد کو منظم، سہولت فراہم اور انجام دیتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا، ’’سیاسی دہشت گردی کی ہماری معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان گروپوں اور ان کے حامیوں کے خلاف اپنے اقتصادی ذرائع استعمال کرے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2026 کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی میں پرتشدد انتہائی بائیں بازو کے گروپوں کو امریکہ کو درپیش بڑے دہشت گرد خطرات میں شامل کیا ہے۔
حالیہ اقدامات 2025 میں امریکہ کی جانب سے ان گروپوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کے تسلسل میں ہیں جنہیں واشنگٹن نے پرتشدد انٹیفا تحریک کا حصہ قرار دیا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے آٹیسٹیچی/انویینتاتی پر الزام عائد کیا کہ اس نے پرتشدد بائیں بازو کے انتہا پسند گروپوں کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور خدمات فراہم کیں، جن میں ویب سائٹ ہوسٹنگ، خفیہ مواصلات اور آن لائن کانفرنسنگ کے لیے سہولیات شامل ہیں۔
محکمے کے مطابق فلسطین ایکشن، جسے برطانیہ نے جولائی 2025 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، نے دفاعی تنصیبات اور فوجی انفراسٹرکچر پر حملے کیے اور پرتشدد کارروائیوں کو فروغ دیا۔ مسار بدیل پر مبینہ طور پر سمیدون (Samidoun) کی جانب سے کام کرنے کے الزام میں پابندی عائد کی گئی ہے۔ سمیدون فلسطینی قیدیوں کے لیے کام کرنے والا ایک نیٹ ورک ہے جس پر امریکہ اور کینیڈا نے 2024 میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ سمیدون کو PFLP کنٹرول یا اس کی ہدایت حاصل ہے۔ پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور تنظیموں کی وہ جائیداد اور جائیداد میں مفادات منجمد کر دیے جاتے ہیں جو امریکہ میں موجود ہوں یا امریکی افراد کے کنٹرول میں ہوں۔ عام طور پر امریکی شہریوں اور اداروں کو نامزد تنظیموں کے ساتھ لین دین کرنے سے روک دیا جاتا ہے، جب تک کہ اس کی خصوصی اجازت نہ ہو یا کوئی استثنا لاگو نہ ہو۔ یہ اقدامات ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت کیے گئے ہیں، جو امریکی انسدادِ دہشت گردی کا ایک قانونی اختیار ہے اور امریکہ کو دہشت گردوں، دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردی کے لیے مادی یا دیگر معاونت فراہم کرنے کے الزام میں افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ پابندیاں سیاسی اظہارِ رائے یا آئین کے تحت محفوظ دیگر سرگرمیوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔ تاہم، اس نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے یا حکومتوں کو دباؤ میں لانے کے ارادے سے کیے جانے والے پرتشدد اقدامات امریکی تعریف کے مطابق دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔










