کھٹمنڈو، 26 اگست (یو این آئی) نیپال ٹورزم بورڈ (این ٹی بی) کے مطابق بدھ کو تبت کی سرحد کے قریب نیپال کے ضلع راسوا میں آنے والے شدید اچانک سیلاب کے بعد ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیے گئے 384 سیاحوں اور مسافروں میں کم از کم 105 ہندوستانی شہری اور 37 غیر مقیم ہندوستانی (این آر آئیز) شامل ہیں۔
اچانک آنے والا سیلاب مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 8:30 بجے راسوا گڑھی-تیمورے کے علاقے میں دریائے بھوٹے کوشی میں آیا۔ اس کے نتیجے میں راسوا اور پڑوسی اضلاع نوواکوت اور دھادِنگ کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
شدید سیلابی ریلے میں گاڑیاں، سامان، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے بہہ گئے، جبکہ کئی پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں آبادیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور امدادی و بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال ٹورزم بورڈ کی مرتب کردہ ابتدائی فہرست کے مطابق 384 مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
اب تک شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں میں 105 کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ فہرست میں آسٹریلیا، نیدرلینڈز، امریکا، ملائیشیا، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ کئی دیگر افراد کی قومیت کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
این ٹی بی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور سفری ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی حکام اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے ان کی تصدیق کی جارہی ہے۔ حکام نے اہل خانہ اور مسافروں سے اپیل کی ہے کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچیں۔
اب تک شناخت کیے گئے 105 ہندوستانی شہریوں میں 59 سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز اور 46 لیف ہالی ڈے کے ذریعے سفر کررہے تھے۔ 37 این آر آئیز کو ہمالین گلیشیئر کے تحت الگ فہرست میں درج کیا گیا ہے۔
ابتدائی ایجنسی وار ریکارڈ کے مطابق ٹریکرز سوسائٹی سے وابستہ 92، سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز کے 71، لیف ہالی ڈے کے 55، ہمالین گلیشیئر کے 52 اور کیلاش جرنی کے 31 مسافر شامل ہیں۔
فش ٹیل ٹورز اینڈ ٹریولز نے 20 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جن میں تین امریکی اور 17 ملائیشین شہری شامل ہیں۔ ہمالین گلیشیئر نے 37 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جبکہ الپائن ایکو ٹریک کے ذریعے سفر کرنے والے 16 افراد میں 12 برطانوی اور چار جنوبی افریقی شہری شامل ہیں۔
ٹورزم بورڈ، ٹورسٹ پولیس اور دیگر سیاحتی ادارے سیلاب کے وقت متاثرہ علاقے میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے افراد کی موجودگی اور سلامتی کا پتا لگانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سفری ایجنسیاں اور متعلقہ ادارے اپنے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کررہے ہیں، اس لیے لاپتہ ہندوستانی شہریوں کی تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا، نیپال میں بھارتی سفارتی مشن نے بھی قدرتی آفت سے متاثرہ بھارتی شہریوں کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز جاری کیے ہیں۔







