سان فرانسسکو، 26 اگست (یو این آئی) حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسپیس ایکس امریکہ کی ریاست لوزیانا میں دنیا کی سب سے بڑی خلائی بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
لوزیانا اکنامک ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے منگل کے روز جاری کیے گئے بیان کے مطابق، یہ تنصیب ورمیلیون پیرش میں تعمیر کی جائے گی اور اسے سالانہ ہزاروں خلائی پروازوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ یہ منصوبہ اگلے 10 سالوں میں براہ راست 3,000 ملازمتیں پیدا کرے گا اور یہاں اوسط سالانہ تنخواہ 92,600 ڈالر ہو گی۔
گورنر جیف لینڈری نے کہا کہ آج لوزیانا کے لیے ایک انتہائی اہم لمحہ ہے، اور انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ریاست کو خلائی پروازوں کی اگلی سرحد کے مرکز میں لا کھڑا کرے گا۔
یہ پیش رفت اسپیس ایکس کا چوتھا اور سب سے بڑا لانچ سینٹر ہو گی، اور یہ کمپنی کے مکمل طور پر دوبارہ استعمال کے قابل اگلی نسل کے لانچ سسٹم اسٹارشپ پر مشتمل مشنز کی توسیع میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔
پوری صلاحیت پر پہنچنے کے بعد اس سائٹ پر پانچ لانچ کمپلیکس ہونے کی توقع ہے، جن میں سے ہر ایک میں دو لانچ پیڈ اور ایک پروپیلنٹ فیلڈ شامل ہو گی۔
بچوں کے پتنگ اڑانے پر غزہ کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی دھمکی مسترد: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ، 26 اگست 2026 — اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی کے ان علاقوں سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی دھمکی کی مذمت کی ہے جہاں بچے پتنگیں اڑا رہے تھے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان راوینا شمدا سانی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’بچوں کے پتنگ اڑانے کی وجہ سے بے دخلی کی دھمکی کے بارے میں، مجھے امید ہے کہ ہم سب اس بات پر متفق ہوں گے کہ یہ انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول ہے۔‘‘
اسرائیل نے اتوار کو حماس کو خبردار کیا تھا کہ اگر پتنگوں، ڈرونز یا غباروں کا اڑایا جانا جاری رہا تو وہ اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دے گا اور ذمہ دار افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی ایسی پتنگوں کے جنوبی اسرائیلی علاقوں میں پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں آتش گیر مواد موجود نہیں تھا۔ ان واقعات نے 2018 میں غزہ سے آتش گیر پتنگیں اور غبارے بھیجے جانے کی یاد تازہ کردی ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق اس وقت یہ کارروائیاں غزہ کی پٹی کی اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج کا حصہ تھیں۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب پتنگیں، ڈرونز اور غبارے بھیجنے کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ ہوا تو اسرائیلی افواج ’’ذمہ دار افراد کے خلاف ہدف بنا کر کارروائیاں مزید تیز‘‘ کریں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل ان علاقوں سے آبادی کو بے دخل کرے گا جہاں سے پتنگیں، ڈرونز اور غبارے اڑائے جاتے ہیں۔
دریں اثنا، غزہ کی مقبول کمیٹیوں نے، جو حماس کے زیر انتظام اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، پیر کو والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں تاکہ ’’ان کی معصوم جانوں کا تحفظ‘‘ کیا جا سکے۔
غزہ سٹی کی ایک خاتون ام محمد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا، ’’ہر موسم گرما میں میرا بیٹا احمد اور گلی کے دوسرے بچے تفریح کے لیے پتنگیں اڑاتے ہیں، لیکن اب میں اسے مزید ایسا نہیں کرنے دوں گی۔‘‘
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے پتنگوں کے حوالے سے اسرائیلی دھمکی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی سرگرمیوں کو مسلح کارروائیوں کے طور پر پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔
یہ تنازع غزہ میں جاری نام نہاد جنگ بندی کے دوران سامنے آیا ہے، جو اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر میں جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 1,280 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں







