ڈھاکہ، 22 اگست (یو این آئی) ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود پیچیدہ تعلقات میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ دونوں ممالک کو درپیش متعدد بحرانوں کے درمیان اب بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے ہندوستان کے دورے کا معاملہ دونوں ممالک کی سفارت کاری اور سیاست میں اہم موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سب سے زیادہ زیرِ بحث سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ طارق رحمان ہندوستان کا دورہ کریں گے یا نہیں۔ اس صورتحال میں ایک نیا عنصر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان حال ہی میں قائم ہونے والے مشترکہ دفاعی اتحاد میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت ہے، جسے ’’اسلامک نیٹو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ قومی مفادات اور عالمی تجارت کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش اس اتحاد میں شمولیت پر مثبت انداز میں غور کر رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہندوستان اس پیش رفت کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔
بنگلہ دیش مختلف ذرائع سے ہندوستان کو پہلے ہی یہ پیغام دے چکا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ماضی کی صورتحال پر واپس نہیں آئیں گے اور ڈھاکہ اپنی عزت و وقار کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دونوں ممالک کے معمول کے تعلقات کو بڑا دھچکا 5 اگست 2024 کو وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد لگا۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران قائم ہونے والی دوستی بھی متاثر ہوئی، جبکہ ڈاکٹر محمد یونس کے چیف ایڈوائزر بننے کے بعد تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد یونس نے نہ صرف ہندوستان مخالف کارڈ استعمال کیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا۔ ان پر بنگلہ دیش میں عوام کو ہندوستان کے خلاف اکسانے اور ’’سیون سسٹرز‘‘ کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات دینے کا الزام عائد کیا گیا، جنہیں سفارتی آداب کے منافی قرار دیا گیا۔ ان بیانات کو بین الاقوامی میڈیا نے بھی نمایاں شائع کیا۔
یونس اور ان کی حکومت کے اقتدار سے رخصت ہونے اور ایک سیاسی جماعت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف پروپیگنڈا ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ اس میں کسی حد تک کمی آئی ہے، تاہم بڑی اپوزیشن جماعت جماعتِ اسلامی اور اس کے طلبہ اتحادی نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) نے ہندوستان مخالف مؤقف برقرار رکھا ہے۔
دونوں گروپوں کے پاکستان اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ وہ وزیراعظم کے مجوزہ دورہ ہندوستان کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس دورے کے لیے شرائط بھی عائد کر چکے ہیں۔ برسرِ اقتدار حکومت کو بھی ان مطالبات کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔
عوامی لیگ سے خالی بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعت جماعتِ اسلامی کو تاریخی طور پر پاکستان نواز سمجھا جاتا ہے۔ جماعت نے 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت کی تھی اور متحدہ پاکستان کو برقرار رکھنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اس نے اب تک بنگلہ دیش کی آزادی کے حق میں ہندوستان کے 1971 کے کردار کو معمول کے انداز میں تسلیم نہیں کیا۔
اس کے دو حامی ترجمانوں، بیرسٹر فواد اور بیرسٹر شہریار، نے میڈیا میں کھل کر ہندوستان مخالف بیانات دیے ہیں۔ مضمون کے مطابق، اس وقت بنگلہ دیش میں 211 ادارے، جماعتیں اور تنظیمیں ہندوستان مخالف مؤقف کے ساتھ سرگرم ہیں اور براہِ راست بھارت مخالف مہم میں شامل ہیں۔









