واشنگٹن، 25 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ’’ایران مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے!‘‘۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور امریکہ ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مختصر پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ ادھر امریکی محکمہ خزانہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ان ممالک کے لیے آخری انتباہ کے طور پر کام کرنا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں۔
یہ مہم واشنگٹن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات بھی محدود ہوئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے توقع تھی کہ وہ پیر کو ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اقتصادی ’’ڈی ڈے‘‘ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے یا اہم کمپنیوں اور اداروں کے لیے ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاکستان کے فوجی سربراہ سے بھی بات کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور ’’ایرانی عوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔‘‘
بقائی نے کہا کہ نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی ایک غلط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ’’فوجی جارحیت ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘‘









