مسقط/تہران، 25 اگست (یو این آئی) عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی منگل کو ایران کا دورہ کریں گے، جہاں تہران اور مسقط آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے یہ اطلاع دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ البوسعیدی خطے میں امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت تہران کے ساتھ "جاری سیاسی مشاورت” کریں گے۔
بقائی کے مطابق، عمانی وزیر خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
28 فروری کو مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم رکھا ہوا ہے اور اہم تیل و گیس بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت حاصل کرنا اور ٹرانزٹ فیس ادا کرنا ضروری قرار دیا ہے۔
امریکہ آبنائے ہرمز کو جنگ سے قبل کی طرح آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے بحال کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ واشنگٹن کو آبی گزرگاہ پر "مکمل کنٹرول” حاصل ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل اور ایل این جی برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔
ایران اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے لیے ایک نئے راستے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ آبنائے دونوں ممالک کو جدا کرتی ہے اور خلیج میں داخل ہونے کا واحد بحری راستہ ہے۔ تاہم، ابھی تک کسی حتمی معاہدے کو شکل نہیں دی جا سکی ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں معاہدہ طے پانے کے باوجود صرف اس بنیاد پر آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھلے گی۔ ایران نے دیگر مطالبات کے علاوہ امریکہ سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کا معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک اس بارے میں متضاد دعوے کرتے رہے ہیں کہ آبنائے کھلی ہے یا نہیں اور بحری آمدورفت پر کس کا کنٹرول ہے۔
ہفتے کے روز ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ تہران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی۔
رپورٹ کے مطابق ان ٹینکروں کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے عراق کے دورے کے دوران بغداد کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔
اس ماہ کے اوائل میں ایران نے کہا تھا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نئی بحری گزرگاہوں کے تعین سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں ہے، تاہم اس نے دوبارہ واضح کیا تھا کہ آبنائے صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب امریکہ ایران کے وسیع تر مطالبات پورے کرے گا۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہنے تک ایران مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرے گا، تاہم دونوں فریق ثالث کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔








