واشنگٹن، 24 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات دگنا کریں گے جبکہ 2027 میں آٹو پارٹس پر بھی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ اقدام گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اوٹاوا پر دباؤ بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کینیڈین گاڑیوں اور اسٹیل پر محصولات یکم جنوری سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیے جائیں گے۔ یہ ہفتے کے روز عائد کیے گئے 50 فیصد محصولات کے علاوہ ہوں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لگائے گئے تھے۔
چونکہ اسٹیل پر پہلے ہی 50 فیصد محصول عائد ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی مراد کیا تھی۔ انہوں نے آٹو پارٹس پر بھی 50 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا، جن پر اس سے قبل کوئی محصول نہیں تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’امریکہ میں تیار کریں اور کوئی محصول نہیں ہوگا۔ کینیڈا کے ساتھ اب کسی ریاست کی طرح سلوک نہیں کیا جائے گا!‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’تجارت اور دیگر معاملات میں بھی کینیڈا دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جن سے معاملات طے کرنا مشکل ہے۔ وہ خود کو اس کا حق دار سمجھتے ہیں، حالانکہ ہمیں کینیڈا کی ضرورت نہیں، انہیں ہماری ضرورت ہے!‘‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کینیڈا مذاکرات کی میز پر آئے اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کرے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کو کیوبیک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کے ساتھ ’’باہمی طور پر فائدہ مند معاہدہ‘‘ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکی کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کریں۔
کارنی نے چھ نئے کینیڈین آئس بریکر بحری جہازوں میں سرمایہ کاری کے اعلان کے موقع پر کہا، ’’جب امریکی ہماری صنعت کے بارے میں درست رویے اور حقیقی شراکت داری کے جذبے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو یقیناً ہم بھی مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔‘‘
اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ، جس صوبے میں کینیڈا کی آٹو صنعت کا بڑا حصہ موجود ہے، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹرمپ نے ’’اپنے قریبی دوست اور اتحادی کے خلاف جنگ، اقتصادی جنگ، کا اعلان کر دیا ہے۔‘‘
فورڈ نے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریگن محصولات کی مخالفت کرتے تھے اور ٹرمپ اپنی میز کے قریب آنجہانی صدر کی تصویر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ریگن کو موجودہ صورتحال کا علم ہوتا تو ’’وہ اس تصویر سے ٹرمپ پر قے کر رہے ہوتے اور قبر میں کروٹیں بدل رہے ہوتے۔‘‘ فورڈ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو شاید ریگن کی تصویر دیوار سے اتار کر کہیں اور رکھ دینی چاہیے کیونکہ ’’رونالڈ ریگن صدر ٹرمپ سے بیزار ہوتے۔‘‘









