سرینگر/۲۲؍اگست
’’میری زندگی کا پہلا کرکٹ بیٹ کشمیر سے آیا تھا۔ میری بڑی بہن اسے وہاں سے لائی تھیں۔‘‘ شائن احمد پرے کو یہ الفاظ کرکٹ کے لیجنڈ سچن ٹنڈولکر سے منسوب کرتے ہوئے یاد ہیں۔
شائن کا کہنا ہے کہ ٹنڈولکر نے یہ واقعہ فروری۲۰۲۴ میں سری نگر،جموں قومی شاہراہ پر واقع اونتی پورہ کے چرسو میں ان کے خاندان کی بیٹ بنانے والی یونٹ کا دورہ کرتے ہوئے سنایا تھا۔ ٹنڈولکر اپنے خاندان کے ساتھ کشمیر وادی کے ذاتی دورے پر تھے، انہوں نے فیکٹری میں وقت گزارا اور اس ملاقات کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا ٹائم لائن پر شیئر کی۔
ٹنڈولکر کا یہ دورہ اور ان کی توثیق اس عالمی اعتماد کو اجاگر کرتی ہے جو کشمیر ولو سے بنے بلّوں کو حاصل ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان کے کرکٹرز برسوں سے انہیں استعمال کرتے آئے ہیں۔ اس طلب میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب عمان اور متحدہ عرب امارات کے کھلاڑیوں نے متحدہ عرب امارات میں۲۰۲۱ میں اور اگلے سال آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے مینز ٹی۲۰ورلڈ کپ کے دوران کشمیر ولو کے بلّے استعمال کیے۔
پیشہ ورانہ معیار کے کشمیر ولو کے بلّوں کو ایک معیاری نظام کے تحت لانے کے لیے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز نے انہیں آئی ایس آئی مارک کے تحت شامل کیا ہے۔ تاہم یہ صنعت، جس کا سالانہ کاروبار تقریباً۳۰۰ کروڑ روپے ہے اور جو براہِ راست یا بالواسطہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، سب سے اہم خام مال‘کشمیر ولو ہی کی شدید قلت سے دوچار ہے۔
شائن نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا، ’’خاص طور پر جنوبی کشمیر کشمیر ولو کی قلت سے دوچار ہے، جو بیٹ کی صنعت کو سہارا دینے والا خام مال ہے۔ پہلے زیادہ تر ولو وہیں سے حاصل ہوتی تھی۔ اب صنعت کاروں کو شمالی کشمیر سے اسے تلاش کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی خطے کو سات برس سے زیادہ عرصے سے اس قلت کا سامنا ہے۔‘‘
شائن ایم جے اسپورٹس بیٹ فیکٹری چلاتے ہیں۔ اوسطاً ایک فیکٹری کو کم از کم۱۰۰کوئنٹل تیار شدہ اور اچھی طرح سیزن کیے گئے ولو کلیفٹس کا ذخیرہ درکار ہوتا ہے تاکہ کام جاری رہے اور پیداوار میں کسی رکاوٹ کے بغیر تسلسل برقرار رہے۔
اگرچہ تیار شدہ بلّوں کی فروخت مضبوط رہی ہے‘شائن کے الفاظ میں ’’اللہ مہربان رہا ہے‘‘لیکن صنعت نے خام مال کے بحران کی بارہا جموں و کشمیر حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ شائن خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اگر حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کشمیر کی بیٹ صنعت تباہ ہو جائے گی۔ یہ اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
حکمران نیشنل کانفرنس کے رہنما اور بجبہاڑہ کے رکن اسمبلی بشیر احمد شاہ ویری بھی اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں حکومت کو ایک پالیسی پیپر پیش کیا، جس میں بیٹ سازی کی صنعت کی بحالی اور معیاری ولو کی مستقل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ویری کہتے ہیں، ’’دو عوامل نے اس قلت کو جنم دیا ہے۔ پہلا یہ کہ بہت سے کسانوں، خاص طور پر جنوبی کشمیر میں، نے کشمیر ولو کی جگہ روسی پاپلر کی لکڑی لگا دی یا اپنی زمینوں کو سیب کے باغات میں تبدیل کر دیا، کیونکہ دونوں صورتوں میں زیادہ تیز یا زیادہ مستقل منافع حاصل ہوتا تھا۔‘‘
وہ کہتے ہیں، ’’دوسرا یہ کہ ولو سے بھرپور اجتماعی اور چراگاہی اراضی کے وسیع حصے، خاص طور پر ضلع اننت ناگ میں،۲۰۱۹کے بعد (آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد) سرکاری اداروں اور صنعتی اسٹیٹس کے قیام کے لیے قبضے میں لے لیے گئے۔‘‘
ستم ظریفی یہ ہے کہ۲۰۱۷میں شمالی کشمیر کی وولر جھیل کے آس پاس۲۰ لاکھ سے زیادہ ولو کے درخت‘جو کبھی جنوبی کشمیر میں کرکٹ بیٹ بنانے والوں کے لیے، اور ساتھ ہی پھلوں کی پیٹیوں کے لیے خام مال کا ایک اہم ذریعہ تھے‘کو جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور کشمیر کے سب سے بڑے سیلابی طاس میں سے ایک سمجھی جانے والی اس آبی زمین کی بحالی کے منصوبوں کے تحت کاٹے جانے کے لیے نشان زد کیا گیا تھا۔
شمالی کشمیر کے سوناواری گاؤں کے رہائشی غلام نبی، جو وولر جھیل کے جنوبی کناروں پر واقع ہے، کہتے ہیں، ’’وولر کے آس پاس یہ ولو کے درخت سیلابی پانی کے خلاف بفر کے طور پر کام کرنے اور مقامی معیشت اور کسانوں کو سہارا دینے کے لیے لگائے گئے تھے، جو ولو کے سائے میں مویشی اور بھیڑ بکریاں پالتے تھے۔ ان درختوں کی لکڑی مقامی آرا مشینوں کو فراہم کی جاتی تھی تاکہ سیب کی پیٹیاں تیار کی جا سکیں، جبکہ بہترین معیار کی لکڑی بلّے بنانے کے لیے جاتی تھی۔‘‘
جھیل کے آس پاس کے دیگر دیہات کی طرح سوناواری بھی کبھی کشمیر ولو کے ایکڑوں پر پھیلے درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ جھیل کے اردگرد ولو کی شجرکاری۱۹۲۴میں ایندھن کی لکڑی فراہم کرنے اور مقامی معیشت، بشمول مویشی بانی اور بھیڑ پالنے، کو سہارا دینے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ وولر کا کیچمنٹ ایریا۱۹۸۰کی دہائی میں جموں و کشمیر محکمہ جنگلات کے کنٹرول میں لایا گیا۔
ان تمام اقدامات کے مجموعی اثر کے نتیجے میں پوری کشمیر میں بلّے بنانے کے لیے موزوں اعلیٰ معیار کی ولو کے زیرِکاشت رقبے میں شدید کمی آئی ہے۔ متعلقہ فریق یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حکام کشمیر سے باہر ولو کے کلیفٹس کی برآمد روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
ویری کا کہنا ہے کہ نئے صنعتی اسٹیٹس کے لیے تازہ قابلِ کاشت اراضی حاصل کرنے کے بجائے حکومت کو پہلے موجودہ اسٹیٹس کے استعمال، ان سے پیدا ہونے والے روزگار اور ان کی مستقبل کی افادیت کا جائزہ لینا چاہیے۔
کشمیر میں تقریباً۴۰۰ فعال کرکٹ بیٹ بنانے والی یونٹس اور کلیفٹ ڈیلرز ہیں، جو زیادہ تر سنگم-اونتی پورہ پٹی میں مرکوز ہیں، اور یہ علاقہ ویری کے اسمبلی حلقے میں آتا ہے۔ یہ یونٹس سالانہ تقریباً۱۵ لاکھ بلّے تیار کرتی ہیں، جو بھارت بھر کی کھیلوں کی منڈیوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ شعبہ کسانوں، ولو اگانے والوں، لکڑی فراہم کرنے والوں، صنعت کاروں، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں اور ٹرانسپورٹروں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو سہارا دیتا ہے۔
بیٹ بنانے والوں کے ساتھ حالیہ رابطوں سے اشارہ لیتے ہوئے ویری تجویز کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر حکومت ایک جامع ’ولو ریوائیول مشن‘ شروع کرے، جس میں محکمہ جنگلات، ماحولیات، زراعت، صنعت و تجارت، باغبانی اور کھیل کے محکمے، دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ شامل ہوں۔
وہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جولائی میں جنوبی کشمیر کے سنگم میں بیٹ بنانے والوں کے ساتھ بات چیت کے دوران معیاری ولو کی مستقل فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ویری کہتے ہیں، ’’وزیر اعلیٰ نے مرہامہ نمبل کے دلدلی علاقے، جو۳ہزارکنال پر پھیلا ہوا ہے، کو دوبارہ حاصل کرنے اور اسے سائنسی طور پر منصوبہ بند حصوں میں تقسیم کرکے پانی کی زیادہ ضرورت والی ولو کی کاشت کے لیے تیار کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔‘‘
انہوں نے وزیر اعلیٰ کے سامنے یہ بھی نشاندہی کی کہ مناسب علاقوں میں، جیسے اجاس (بانڈی پورہ) اور وولر جھیل کے اردگرد کے کیچمنٹ علاقوں میں، ماحولیاتی تحفظات اور سائنسی جائزے کے تابع کشمیر ولو کے لیے زمین تیار کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )









