نئی دہلی، 21 اگست (یو این آئی) کانگریس کی طلبہ شاخ نیشنل اسٹوڈینٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے انسٹی ٹیوٹ آف ٹاؤن پلانرز انڈیا (آئی ٹی پی آئی) کے صدر پردیپ کپور کے ذریعہ اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کے گورننگ باڈی میں خود کو نمائندہ نامزد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
این ایس یو آئی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ روی ہنومان پانڈے نے جمعہ کو بتایا کہ اس سے متعلق ایکٹ کے مطابق آئی ٹی پی آئی کے ایک نمائندے کو صدر کے ذریعہ نامزد کیے جانے کا التزام ہے لیکن اس میں خود آئی ٹی پی آئی صدر کو بربنائے عہدہ ممبر نہیں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی پی آئی صدر کپور کی نامزدگی غیر قانونی ہے، اس کی قانونی حیثیت کی جانچ کر کے انہیں فوری طور پر گورننگ باڈی سے ہٹایا جانا چاہیے۔
این ایس یو آئی کے ترجمان نے الزام لگایا کہ پردیپ کپور نے بھرتی اور انتخاب سے متعلق گورننگ باڈی کی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا نیز میٹنگ فیس اور دیگر مالی فوائد حاصل کیے۔ تنظیم نے ان کی نامزدگی، کارروائیوں میں شرکت اور حاصل شدہ فوائد کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ اگر جانچ میں ضابطہ کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو پردیپ کپور کے خلاف مناسب کارروائی کے ساتھ ساتھ حاصل شدہ مالی فوائد کی وصولی بھی کی جانی چاہیے۔ این ایس یو آئی نے کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کے باہر احتجاج کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔










