کیف، 21 اگست (یواین آئی /اسپوتنک) یورپی یونین نے بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث یوکرینی کسانوں کو اضافی 22 کروڑ یورو (25.7 کروڑ ڈالر) فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یوکرینی اخبار یورپی پراودا نے جمعرات کو یورپی کمیشن کے ترجمان مارکس لیمَرٹ کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ گزشتہ 23 جولائی کو یوکرین کے وزیر زراعت پالیسی تاراس وِیسوتسکی نے کہا تھا کہ جہاز مالکان کے فیصلے کے باعث بحری جہازوں نے یوکرینی بندرگاہوں میں داخل ہونا بند کر دیا ہے۔ اگست کے آغاز میں مال برداری کے ایجنٹوں کی ایسوسی ایشن نے بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث پولینڈ کی سرحد پر نقل و حمل کا نظام درہم برہم ہونے کی اطلاع دی تھی۔
پولینڈ میں داخلے کے لیے تقریباً 6,500 ٹرک قطار میں کھڑے تھے، جبکہ انتظار کا دورانیہ سات دن تک پہنچ گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یورپی کمیشن پہلے ہی ثالثی اداروں کے ذریعے یوکرینی بینکوں کے لیے قرض پروگراموں کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ بینک کاروباری افراد، بالخصوص کسانوں کو قرض فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگست کے آغاز میں یوکرین کی وزارت زراعت نے یورپی کمیشن سے درخواست کی تھی کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے یوکرینی زرعی پیداوار کنندگان کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 22 کروڑ یورو کی ناقابلِ واپسی امداد فراہم کرنے کے امکان پر غور کرے۔ یوکرین کی وزارت زراعت نے اگست کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ ملک کی بندرگاہوں میں لاجسٹک مسائل کے باعث 2026-27 میں یوکرین کی زرعی برآمدات نصف رہ سکتی ہیں۔










