واشنگٹن، 21 اگست (یو این آئی) ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے اور اسے فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں درجنوں فلسطینی بستیاں مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث درجنوں فلسطینی برادریوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی ایک نئی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی اسرائیلی بستیوں کی تیزی سے توسیع کے نتیجے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی حکام پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ آبادکاروں کو ہتھیار فراہم کرنے، مالی معاونت دینے اور انہیں کارروائیوں پر استثنیٰ دینے کے ذریعے حملوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دسمبر 2022 میں موجودہ اسرائیلی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف موجودہ جنگ کے پہلے دو ماہ میں ان حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کیے گئے واقعات میں بچوں سمیت فلسطینیوں کی ہلاکتیں، حملے، جنسی تشدد، جسمانی اور ذہنی اذیت، من مانی گرفتاریاں، آتش زنی، املاک کی مسماری اور چوری شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی قائم مقام اسرائیل و فلسطین محقق سارہ سنبار نے کہا کہ ”اسرائیلی حکومت اور آبادکاروں کا مشترکہ مقصد زیادہ سے زیادہ زمین اور کم سے کم فلسطینی ہیں، جبکہ حکام آبادکاروں کے تشدد کو روکنے میں ناکام رہنے کے بجائے اسے فعال طور پر ممکن بنا رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا، ”آبادکار فلسطینیوں کو گولی مارتے، حملے کرتے اور انہیں ان کی زمین سے بے دخل کرتے ہیں، جبکہ ریاست انہیں ہتھیار، قانونی تحفظ اور بجٹ فراہم کرتی ہے۔”
ہیومن رائٹس واچ نے اپریل اور مئی کے دوران مغربی کنارے کی سات فلسطینی برادریوں میں آبادکاروں کے حملوں کی تحقیقات کیں۔ ان میں رام اللہ گورنری کے المغیر، مخماس اور طیّبہ، نابلس گورنری کے جلود اور قریوت اور وادی اردن کے خربت حمصہ اور معرجات ایسٹ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض مواقع پر مسلح آبادکاروں نے اسرائیلی فوجی یونٹوں کے ساتھ مل کر فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر چھاپے مارے، جبکہ بعض واقعات میں فوجی اہلکار موقع پر موجود ہونے کے باوجود مداخلت کرنے میں ناکام رہے۔ تنظیم کے مطابق اس طرز عمل نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے ایک مسلسل سلسلے میں کردار ادا کیا۔










