سرینگر/۲۱؍اگست
ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی جانب سے جموں سے۳۵ سالہ ایک شخص کی مبینہ طور پر سرحد پار منشیات اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری نے اس مسئلے کی ایک نئی اور پیچیدہ جہت کو سامنے لایا ہے۔
انڈئن ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور قانون نافذ کرنے کے لیے قائم خصوصی ایجنسی ایس آئی اے گزشتہ چار برس سے اس شخص کی تلاش میں تھی، تاہم اسے گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ مذکورہ شخص، جو اب۳۵ سال کا ہے، مسلسل اپنے ٹھکانے تبدیل کرتا رہا اور شاذ و نادر ہی موبائل فون ساتھ رکھتا تھا۔ تقریباً تین ماہ قبل بھی وہ پولیس کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اپنے پیچھے ہیروئن کی ایک مقدار چھوڑ گیا تھا۔
اس لیے اس کی گرفتاری پولیس کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔تاہم اس کارروائی کو مزید اہم بنانے والی بات گرفتار شخص کی شناخت ہے۔ وہ ایک کشمیری پنڈت ہے، یعنی اس برادری سے تعلق رکھتا ہے جسے۳۵ سال سے زائد عرصہ قبل وادی کشمیر میں اپنے گھروں سے نقل مکانی کرکے جموں میں پناہ لینا پڑی تھی۔
گرفتار شخص کی شناخت منوج کمار بھٹ عرف پنٹو کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بخشی نگر کے ریہاڑی کالونی علاقے میں رہنے والے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کا بیٹا ہے۔اس گرفتاری نے کشمیری پنڈت برادری کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے، تاہم شہر میں کسی شخص کو بظاہر پنٹو کے بارے میں کوئی خاص معلومات یا اس سے وابستگی نہیں تھی۔
برادری کے ارکان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ بات قبول کرنا مشکل ہے کہ ان کا کوئی فرد پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک سے وابستہ ہو سکتا ہے، حالانکہ یہی دہشت گردی۱۹۹۰ میں ان کی آبائی بستیوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی بنیادی وجوہات میں شامل تھی اور اس نے برادری کو آج تک گہرے زخم دیے ہیں۔
سبھاش نگر کے ایک رہائشی، جہاں وادی سے ہجرت کرکے آنے والے متعدد خاندان آباد ہیں، نے کہا، ’’اس نے ہمیں بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ایک اور رہائشی نے کہا، ’’ہم صبح سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کون ہے، لیکن ابھی تک زیادہ کامیابی نہیں ملی۔‘‘
ایس آئی اے کا کہنا ہے کہ پنٹو پہلا کشمیری پنڈت ہے جسے جموں و کشمیر میں سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پنٹو کا خاندان سری نگر کے رعناواری علاقے سے جموں منتقل ہوا تھا۔ اس کے والد محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگز میں ملازم تھے اور بعد میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ایس آئی اے کے مطابق اس خاندان نے جموں میں ریلیف کمشنر کے دفتر کے پاس بطور مہاجر رجسٹریشن نہیں کرائی تھی، اس لیے اس کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے کوئی مالی امداد یا دیگر سہولیات حاصل نہیں ہو رہی تھیں۔
پنٹو کی ماضی یا موجودہ زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ اس کے بہن بھائی، تعلیم، ازدواجی حیثیت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجوہات بھی واضح نہیں ہیں۔
ایس آئی اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پنٹو تقریباً چار برس تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دیتا رہا۔ وہ زیادہ تر اپنا فون بند رکھتا تھا اور جب بھی فون آن کرتا، مختلف نمبر استعمال کرتا تھا۔
ایس آئی اے کے مطابق پنٹو کو۳ جون۲۰۲۲ کو ایس آئی اے کشمیر میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں مطلوب قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ لائن آف کنٹرول کے پار سے منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق تھا۔
یہ مقدمہ سوپور کے علاقے نوپورہ میں دو افراد، ذیشان احمد صوفی اور وسیم احمد خان، سے ایک کلوگرام ہیروئن برآمد ہونے کے بعد درج کیا گیا تھا۔ بعد کی تحقیقات کے دوران۷ کلوگرام پوست کا بھوسہ اور۴کلوگرام پوست کے بیج بھی برآمد کیے گئے، جنہیں ممکنہ طور پر افیون تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
ایس آئی اے اہلکاروں کے مطابق ذیشان اور وسیم سے پوچھ گچھ کے دوران پنٹو کا نام سامنے آیا۔ دونوں نے بتایا کہ مفروری کے دوران وہ اکثر کشمیر آتا رہا تھا۔
جموں میں پنٹو کے رہائشی مکان پر ایس آئی اے کی کارروائی کے دوران۱۵گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ کچھ الیکٹرانک آلات اور ایک موٹر سائیکل بھی قبضے میں لی گئی، جنہیں فی الحال فرانزک اور تکنیکی جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔
ایس آئی اے کے مطابق ان افراد نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے منشیات کی اسمگلنگ کا انتظام اور سہولت کاری کی۔ اس کے بعد منشیات کو جموں و کشمیر میں سرگرم ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے جمع، تقسیم اور فروخت کیا جاتا تھا۔
ایجنسی کے مطابق یہ تحقیقات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان سے منشیات کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کے اس طے شدہ طریقہ کار کا انکشاف ہوتا ہے جس میں منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے منتقل کی جاتی ہے۔
ایس آئی اے کے ایک افسر کے مطابق پولیس کو تقریباً چار برس تک چکمہ دینے کے دوران پنٹو کئی مرتبہ کشمیر گیا۔ مختلف علاقوں سے اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے تقریباً نصف درجن افراد نے دورانِ تفتیش تصدیق کی کہ پنٹو لائن آف کنٹرول کے پار سے اسمگل کی جانے والی منشیات وصول کرنے کے لیے کشمیر آتا تھا۔تاہم انسداد دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے وہ کشمیر میں قیام کے دوران اپنے پاس موبائل فون نہیں رکھتا تھا۔
ایجنسی نے تکنیکی نگرانی، اس کی نقل و حرکت اور محدود موبائل فون استعمال کے انداز کا جائزہ لے کر پتہ لگایا کہ وہ جموں کے ریہڑی، سدھرا، نگروٹہ، نئی بستی اور قاسم نگر علاقوں میں سرگرم تھا۔
ایس آئی اے نے انسانی ذرائع سے حاصل معلومات اور تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر تقریباً تین ماہ قبل جموں میں ایک مقام پر چھاپہ مارا تھا، لیکن پنٹو وہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ اپنے پیچھے ہیروئن کی خاصی مقدار چھوڑ گیا، جسے ضبط کر لیا گیا۔
بعد میں پنٹو کی ایک مخصوص علاقے میں نقل و حرکت کے بارے میں تازہ معلومات ملنے پر ایس آئی اے کی ایک ٹیم، جو پہلے ہی اس کی تلاش میں شہر میں موجود تھی، نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کی گرفتاری کی وجہ بننے والی غلطی یہ تھی کہ اس نے اپنا ایک موبائل فون آن کر دیا تھا۔
ایس آئی اے نے پنٹو کو گرفتار کیے جانے کی صحیح جگہ ظاہر نہیں کی ہے۔حکام کے مطابق پنٹو کی گرفتاری اہم ہے کیونکہ اس سے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں سرگرم حزب المجاہدین کے حمایت یافتہ ایک وسیع تر منشیات اور دہشت گردی کے مبینہ گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہوا ہے۔
ایس آئی اے کے مطابق تحقیقات سے ایک ایسے خطرناک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں منشیات جموں و کشمیر میں پہنچائی جاتی ہیں، ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہیں اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
پنٹو، صوفی اور وسیم کے علاوہ پولیس نے احمد خان، بشیر احمد کولی، محمد اشرف لون، محمد سلیم خان اور زفران خان کو بھی اس معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ پنٹو، صوفی اور وسیم کے علاوہ دیگر تمام افراد کو بارہمولہ سے گرفتار کیا گیا۔ ایجنسی نے ان کے خلاف مجاز عدالت میں متعدد چارج شیٹس بھی داخل کی ہیں۔
ایس آئی اے کے ایک افسر نے بتایا کہ ایجنسی اب پنٹو کے دو مفرور ساتھیوں کی تلاش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک منشیات کے کاروبار کو متبادل اور خفیہ مالی ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
افسر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے پار منشیات کی اسمگلنگ سے لے کر مقامی سطح پر ان کی تقسیم اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی تک پوری زنجیر کو نشانہ بنا کر ایجنسی دہشت گردی کو برقرار رکھنے والے مالی اور معاون ڈھانچوں کو کمزور اور ختم کرنے کے وسیع تر مقصد پر کام کر رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے سرحد پار سے منشیات بھیجے جانے کے باعث منشیات کا استعمال مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق۱۳ء۵ لاکھ سے زائد افراد، جو مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مجموعی آبادی کا تقریباً۱۰ فیصد ہیں، منشیات کے استعمال میں مبتلا پائے گئے۔ ان میں۱۰ سے۱۷ سال کی عمر کے۱ء۶۸ لاکھ نابالغ بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً۵۰ہزار نوجوان ہیروئن کے عادی ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پہلی مرتبہ۲۰۲۰۔۲۱ کے دوران پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے اس طریقہ کار کو محسوس کیا، جب کشمیر کے سرحدی علاقوں میں اسلحہ، آئی ای ڈیز اور نقد رقم کے ساتھ منشیات کی کھیپ بھی پکڑی گئی۔
پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے اسمگل کی جانے والی بالخصوص ہیروئن کی کھیپ وصول کرنے والے متعدد افراد نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









