جکارتہ، 17 اگست (یو این آئی) انڈونیشیا کے فلوریس علاقے میں پیر کی صبح 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق، آج کے زلزلے کا مرکز ابتدائی طور پر 8.57 ڈگری جنوبی عرض البلد اور 121.55 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا، جو سطح زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے سے جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
دو دن پہلے ہفتے کے روز 7.7 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ طاقتور زلزلے نے فلوریس میں چھ ریجنسیوں کو متاثر کیا، لینڈ سلائیڈنگ، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور مواصلات میں خلل پڑا۔
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو سب سے زیادہ متاثرہنگیکو ریجینسی تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دی ہیں اور مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جس سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 15 اگست کو فلورس میں 230 سے زیادہ جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے سب سے زیادہ طاقتور جھٹکے 6.2 کی شدت کے تھے۔ ادھر فلورس سے ہزاروں کلومیٹر دور سماٹرا میں بھی 6.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا نے سنیچر کے زلزلے کے بعد 14 دن کے ہنگامی ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اتوار کو بھی جاری رہیں، حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلورس کے کچھ حصوں میں ایندھن اور ایل پی جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ تقریباً 6000 لوگ مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں سیکا، مانگرائی، نگیکیو، بیما اور سیلیار شامل ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 914 مکانات، 93 تعلیمی ادارے، 36 صحت مراکز اور 38 سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچا۔ حکام نے مزید زلزلے کے لیے چوکسی بڑھا دی ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔







