انقرہ، 17 اگست (یو این آئی) ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ سیاسی، عسکری، اقتصادی اور اسٹریٹجک اعتبار سے ایک نئے دور کی علامت ہے…
ٹی آر ٹی کے مطابق انقرہ دفاعی صنعت کے میدان میں ایک مثالی مقام رکھتا ہے۔ مکہ کے پاس بے پناہ مالی طاقت ہے جبکہ اسلام آباد کے پاس جوہری طاقت موجود ہے۔ ان تمام صلاحیتوں کا امتزاج تینوں ممالک کو ایک وسیع جغرافیائی خطے میں طاقت کے توازن کے تعین کے قابل بنائے گا۔ آج ہم آپ کے لیے اس موضوع پر سرتاچ آقسان کا ٹی آر ٹی حابر کے لیے تیار کردہ تجزیاتی کالم پیش کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں شاید سب سے اہم معاہدوں میں سے ایک مکہ میں طے پایا ہے۔۔۔ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس کا نام ’’دفاع‘‘ ہونے کی وجہ سے ابتدائی طور پر ذہن میں عسکری معاملات آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ تعاون ایک وسیع جغرافیائی خطے میں انتہائی اہم نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یقیناً، یہاں ایک بنیادی نکتے کو مدّنظر رکھنا ضروری ہے کہ تینوں ممالک کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں۔ ترکیہ ان تینوں ممالک میں دفاعی صنعت، جدید جنگی نظریات اور ’’کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے‘‘ کی صلاحیت کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب اس اتحاد کا مالی اعتبار سے سب سے طاقتور رکن ہے۔ اس کے وسیع مالی وسائل مکہ انتظامیہ سے متعلق معاملات کو ’’تیز رفتاری‘‘ سے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کا واحد جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے علاوہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ یہ اتحاد کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے۔
مکہ معاہدے سے ہمیں کیا سمجھنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے موجودہ صورتحال کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے باعث یورپ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ کو جہنم میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف جارحانہ سوچ اور ایران کی جانب سے کشیدگی کی آگ کو پورے خلیج تک پھیلانے جیسے حالیہ واقعات سب کے سامنے ہیں۔ ادھر ایشیا پیسیفک خطے میں بھی صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے۔ چین کی تائیوان کے ساتھ کشمکش اور امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف جلد از جلد ٹھوس اقدامات کرنے کی خواہش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
علاقائی تنازعات، نقل مکانی، روایتی جنگیں، سائبر حملے اور ہائبرڈ خطرات شاید پہلے سے کہیں زیادہ شدّت اختیار کرچکے ہیں۔ آخرکار ہر ملک کسی نہ کسی طرح اس نئے دور کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے، اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اپنے فریق کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ اس تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تینوں ممالک کے دستخط ایک وسیع جغرافیائی خطے کو متاثر کریں گے نجم الدین اربکان یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر گوک ہان چِنکارا کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اتحاد کے معاہدے کا ایک اہم ترین نتیجہ ’’مشترکہ تعاون‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ گوک ہان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس معاملے میں اپنی مالی طاقت کے باعث نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے اور خصوصاً عسکری منصوبوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے دفاعی صنعت میں انقرہ کی قائدانہ حیثیت انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق بعض اہم منصوبوں میں ترقی کا عمل پہلے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یقیناً مکہ انتظامیہ کی واحد خصوصیت اس کی مالی طاقت نہیں ہے







