سڈنی، 17 اگست (یو این آئی) آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) میں رواں سال کے آخر میں بندوق واپسی اسکیم شروع کی جائے گی۔ بونڈی بیچ دہشت گرد حملے کے بعد نقد رقم کے بدلے ہتھیار واپس لینے کی یہ ملک کی پہلی ریاستی سطح کی اسکیم ہوگی۔
اسکیم کے تحت نیو ساؤتھ ویلز میں بندوق کے مالکان 2 نومبر سے اہل پستول، شاٹ گن اور رائفلیں جمع کرا کے زیادہ سے زیادہ 1,000 آسٹریلوی ڈالر حاصل کر سکیں گے۔ این ایس ڈبلیو کے پریمئرکرس منس نے ہفتے کو کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ یہ بندوقیں واپس جمع کرائی جائیں، ان کا معاوضہ دیا جائے اور انہیں محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے۔”
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت لاکھوں نہیں تو سیکڑوں ہزاروں بندوقیں واپس جمع ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر ایک یہودی تہوار کے دوران فائرنگ میں 15 افراد کی ہلاکت کے بعد آسٹریلوی حکام نے ملک کے اسلحہ قوانین میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔
ریاست میں نافذ کیے گئے نئے اسلحہ قوانین کے تحت عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 4 بندوقیں رکھنے کی اجازت ہے۔ تاہم کسانوں اور کھیلوں میں نشانہ بازی کرنے والے افراد سمیت بعض مخصوص زمروں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ 10 بندوقیں رکھنے کی اجازت ہے۔
نئی اسکیم ان افراد کے لیے دستیاب ہوگی جن کے پاس نئے قوانین کے تحت مقررہ حد سے زیادہ ہتھیار ہیں یا جن کے پاس اب جائز لائسنس نہیں ہے۔ اسلحہ لائسنس کی مدت بھی 5 سال سے گھٹا کر 2 سال کر دی گئی ہے







