نئی دہلی، 12 اگست (یواین آئی) لوک سبھا نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ترمیمی بل (ایف سی آر اے)، 2026 کو دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے غور و خوص کے لیے بھیجنے کی تجویز بدھ کو اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان منظور کر لی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے ایوان میں بل کو جے پی سی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ یہ بل غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے، جسے وزیر برائے پارلیمانی امور کرن ریجیجو نے مکمل طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن اراکین کو بل جے پی سی کو بھیجے جانے کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ وہاں اس پر جامع بحث و مباحثہ ہو سکے۔ اپوزیشن اراکین کے شور شرابے کے درمیان ایوان نے تجویز کوصوتی سے منظوری دے دی۔
تجویز کے مطابق جے پی سی کے لیے لوک سبھا کے 21 اراکین کی نامزدگی اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا کے 10 اراکین کی نامزدگی چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کریں گے۔ کمیٹی کو اگلے سیشن کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
مسٹر رائے کے تجویز پیش کرتے ہی اپوزیشن اراکین نے بل کی مخالفت شروع کر دی۔ کانگریس کے کے سی وینوگوپال اور سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بل اقلیتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو نشانہ بنانے والا ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ ایف سی آر اے میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد اقلیتوں اور این جی اوز کو نشانہ بنانا ہے۔
مسٹر ریجیجو نے اپوزیشن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے مسٹر اکھلیش یادو کو بل میں کسی بھی ‘اقلیت مخالف’ التزام کو دکھانے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ بل میں کسی اقلیت یا برادری کو نشانہ بنانے والا ایک بھی لفظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کو بل کی التزامات پر اعتراض ہے تو اسے جے پی سی کو بھیجا جا رہا ہے، جہاں اراکین کو اپنا موقف رکھنے کا پورا موقع ملے گا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ پوری اپوزیشن بل کے موجودہ مسودے کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے بل اقلیتوں کو نشانہ بنا کر لائے جا رہے ہیں۔ مسٹر ریجیجو نے اس الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ بل ملک کی ہر برادری کے تحفظ کے لیے ہے۔
اس سے پہلے جیسے ہی ایوان کی کارروائی ایک بار کے التوا کے بعد دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین نے پھر سے ایوان میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان اور دیگر مطالبات کو لے کر شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ پریزائیڈنگ آفیسر جگدمبیکا پال نے ایوان کو بتایا کہ کچھ ارکان نے تحریک التواء پیش کی ہے، لیکن اسپیکر اوم برلا نے ان میں سے کسی کو قبول نہیں کیا ہے۔ شور شرابے کے درمیان ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے گئے۔ ایوان میں شدید ہنگامے کو دیکھتے ہوئے مسٹر پال نے ایوان کی کارروائی تین بجے تک ملتوی کر دی۔








