ڈارون، 12 اگست (یواین آئی) بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے آسٹریلیا میں اضافی باؤنس والی پچوں سے نمٹنے کے لیے اچھی تیاری کی ہے۔ بنگلہ دیش 2003 کے بعد پہلی بار آسٹریلیا کی سرزمین پر ٹیسٹ میچ کھیلے گا۔ تاہم آسٹریلیا الیون کے خلاف پریکٹس میچ میں ٹیم کا محض 54 رنز پر آؤٹ ہونا باعث تشویش ہے۔
شانتو نے کہا کہ ٹیم نے مقامی حالات کو سمجھنے کے لیے ڈارون میں کافی وقت گزارا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران گھر میں باؤنس والی پچوں پر بھی تیاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے آسٹریلیائی گیندبازی اٹیک کے خلاف کھیلنا ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن ٹیم نے ٹیسٹ سے 10 سے 12 روز قبل یہاں پہنچ کر اچھی تیاری کی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’نئی گیند کے خلاف چیلنج زیادہ ہوگا۔ ہمیں طویل وقت تک بلے بازی کرنے، تسلسل اور یکسوئی برقرار رکھنے پر توجہ دینی ہوگی۔ ہر کھلاڑی کو اپنے فطری انداز میں کھیلتے ہوئے رنز بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔‘‘
شانتو نے جون میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں بنگلہ دیش کی کامیابی کو ٹیم کے لیے اعتماد کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار تھا جب بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو کسی سیریز میں شکست دی اور گزشتہ دو تین برسوں میں ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی نمایاں بہتری دکھائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں بنگلہ دیش ساتویں نمبر پر تھا، جبکہ اب وہ چوتھے نمبر پر ہے اور اس کے شیڈول میں مزید آٹھ ٹیسٹ باقی ہیں۔ شانتو نے کہا کہ بنگلہ دیش کی گیندبازی یونٹ اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے اور اگر بیٹنگ میں مزید بہتری لائی جائے تو ٹیم مستقبل میں مزید مضبوط بن سکتی ہے۔
کپتان نے لٹن داس کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیم کی بیٹنگ میں گہرائی پیدا کرتے ہیں اور امید ہے کہ ٹیسٹ میچ میں پوری بیٹنگ یونٹ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔




