نئی دہلی، 11 اگست (یو این آئی) کرکٹ اسکاٹ لینڈ اور رائل ڈچ کرکٹ ایسوسی ایشن نے مردوں کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں آئی سی سی کی حالیہ تبدیلیوں پر گہری مایوسی ظاہر کرتے ہوئے ایک سخت مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان کے مطابق، دونوں بورڈز نے دیگر ایسوسی ایٹ اراکین کے ساتھ مل کر آئی سی سی سے دو بار ملاقات کی اور تبدیلیوں کے بارے میں سرکاری تحریری معلومات اور اس عمل کے بارے میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔
تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری میٹنگ کے دو ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے بعد بھی آئی سی سی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے، جسے انہوں نے ”مایوس کن“ اور ”توہین آمیز“ بتایا۔ ان تبدیلیوں کو ایسوسی ایٹ اراکین کے لیے ایک دھچکا مانتے ہوئے، بیان میں کہا گیا ہے کہ نیا فارمیٹ ”حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر کھیل کو آگے بڑھانے میں ہوئی پیش رفت کو کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کرے گا“۔
بیان میں کہا گیاکہ ”ایسے وقت میں جب کرکٹ اپنی رسائی بڑھانا چاہتا ہے، نئے ناظرین کو متوجہ کرنا چاہتا ہے اور بین الاقوامی کھیل کی دنیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معنی خیز مواقع کو کم کرنا پوری طرح سے غلط پیغام دیتا ہے“۔
بورڈز نے یہ بھی کہا کہ اہم فیصلے، خاص طور پر وہ جو براہ راست ایسوسی ایٹ اراکین کو متاثر کرتے ہیں، ان سے مشورہ کرنے اور ”معقول اطلاع“ دینے کے بعد ہی لیے جانے چاہئیں تاکہ ان کے اثرات کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔ ”ان تبدیلیوں سے بین الاقوامی کرکٹ کی سالمیت اور ساکھ کمزور ہونے کا خطرہ ہے اور یہ مضبوط گورننس، شفاف فیصلے لینے کی طریقہ کار اور اراکین کے ساتھ موثر رابطہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اراکین اور ان کے کھلاڑی ورلڈ کپ کی تیاری میں سالوں لگاتے ہیں، اور ان راستوں پر بھروسہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ بغیر مشورے کے کوالیفکیشن سائیکل کے درمیان میں انہیں بدلا نہ جائے“۔



