’امید ہے کہ امیت شاہ کے بیان کے بعد پارلیمنٹ میں تعطل ختم ہوگا اور ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق چل سکے گی‘
سرینگر/ ۱۰ ؍اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کونسل آف منسٹرز میں طویل عرصے سے زیرِ انتظار توسیع ضرور ہوگی، تاہم یہ عمل ۱۵ ؍اگست سے پہلے مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے۔
کابینہ میں توسیع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اس عمل کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اور امید ظاہر کی کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے بعد اس سلسلے میں پیش رفت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی حلقوں میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں نئے وزرا کی شمولیت کے امکانات کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
مجوزہ توسیع سے حکومت میں زیادہ نمائندگی کی ضرورت پوری ہونے اور مختلف محکموں کے کام کاج کو مزید مستحکم بنانے کی توقع ہے، جبکہ انتظامیہ جموں و کشمیر میں اپنے حکمرانی کے ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
اگرچہ عمر عبداللہ نے ممکنہ وزرا کے نام یا کابینہ میں توسیع کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ (توسیع) ہوگی۔ کیوں نہیں ہوگی؟ آپ یہ سوال دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے پوچھیں۔ وہاں کئی مہینوں سے ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ ہوگی، فکر نہ کریں۔‘‘انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع ۱۵ اگست کے بعد کی جا سکتی ہے۔
پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے حوالے سے عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کے بعد تعطل ختم ہوگا اور ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق چل سکے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’اگر وزیر داخلہ ایوان میں ان سوالات کا جواب دیتے ہیں کہ جنتر منتر پر کیا ہوا یا وہاں احتجاج سے نمٹنے کے دوران کیا ہوا، اور اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کا کام دوبارہ شروع ہوتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلے، کیونکہ پارلیمنٹ چلانے پر بڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ کے ایوان میں جواب دینے کے باوجود تعطل برقرار رہتا ہے تو عوام اسے درست نہیں سمجھیں گے۔
عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ کے باقی ماندہ دنوں میں کارروائی خوش اسلوبی سے جاری رہے گی۔
دریں اثنا، مانسون اجلاس کے آغاز سے اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیر کے روز کہا کہ حکومت لوک سبھا میں طلبہ کے احتجاج اور ملک بھر میں پولیس کارروائی پر مکمل بحث کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اس بحث کا جواب دیں گے، بشرطیکہ اپوزیشن ایوان میں خلل نہ ڈالنے اور بحث کو پُرامن طریقے سے سننے کی یقین دہانی کرائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے خدشات اور مسائل کا وزیر داخلہ کی جانب سے جواب دینا ایک اچھی پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا، ’’پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
جھارکھنڈ میں مبینہ بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے پاس دوسرے ریاستوں میں ہونے والے واقعات پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے اتنا وقت نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا، میرے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہے کہ میں دوسری ریاستوں کے حالات دیکھتا رہوں۔ جھارکھنڈ میں کیا ہو رہا ہے، یہ جھارکھنڈ حکومت جانے۔ میں اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتا ہوں؟ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر احتجاج پُرامن ہو اور کہیں بھی حالات خراب نہ ہوں۔‘‘
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی گاڑی پر حملے سے متعلق سوال پر بھی عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ ملک میں ہونے والے ہر واقعے پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا، ’’یہاں (جموں و کشمیر میں) سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









