سرینگر/۱۰؍اگست
پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جاری انتخابات پرتشدد جھڑپوں اور سکیورٹی کریک ڈاؤن کے سائے میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کے دوران درجنوں مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ آخری مرحلے میں ۱۱ میں سے ۴ نشستوں پر پیر کے روز پولنگ ہوئی، جبکہ سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے باعث باقی ۷ نشستوں پر پولنگ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
نئی دہلی نے ان انتخابات کو اسلام آباد کی جانب سے اپنے ’’غیر قانونی قبضے‘‘ کو چھپانے اور خطے میں انسانی حقوق کی ’’سنگین‘‘ خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
۲۷ جولائی اور ۲ ؍اگست کو منعقدہ پہلے دو مراحل میں ۴۵ میں سے ۳۴ نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پہلے ہی ۲۴ نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی صورت میں یہ جماعت ایک دہائی بعد خطے میں دوبارہ اقتدار میں آ جائے گی۔
دریں اثنا، اب کالعدم قرار دی جا چکی سول سوسائٹی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
حکام کے مطابق باقی ۷ نشستوں کے لیے نئی پولنگ کی تاریخوں کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل رواں ماہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مجموعی طور پر ۵۳ نشستیں ہیں، جن میں ۴۵ ارکان براہ راست منتخب ہوتے ہیں، جبکہ ۸ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علما کے لیے مخصوص ہیں۔
انتخابی مہم گزشتہ کئی ہفتوں سے جے اے اے سی کی قیادت میں جاری احتجاج کے باعث متاثر رہی ہے۔ کمیٹی نے عوام سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔خطے میں معاشی مشکلات اور شہری آزادیوں میں مبینہ کمی کے علاوہ موجودہ احتجاج کی ایک اہم وجہ مہاجرین کے لیے مخصوص ۱۲ نشستیں ہیں، جن کے لیے ووٹنگ بیرونِ خطہ کی جاتی ہے۔
جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ یہ انتظام خطے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔ ۲۰۲۳ میں قائم ہونے والی جے اے اے سی مقامی لوگوں کے لیے زیادہ سیاسی حقوق کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جون ۲۰۲۶ سے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن کے دوران پاکستانی فورسز کے ہاتھوں کم از کم ۹۰ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نائب ترجمان فرحان حق نے پُرامن احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں پر جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔
گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن پر حکام سے جواب دہی کے مطالبے سے متعلق سوال پر فرحان حق نے کہا، ’’یہ اہم ہے کہ ہر جگہ تمام حکام پُرامن احتجاج کی اجازت دیں اور یقیناً یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر پُرامن احتجاج میں حصہ لینے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی جواب دہی ضروری ہے۔‘‘
اس سے قبل ۱۷ جولائی کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کی ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے جے اے اے سی پر پاکستان کی پابندی اور اس کے رہنماؤں کی گرفتاری پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
بھارت کا مؤقف
بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام دونوں علاقے اس کے اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصے ہیں۔ نئی دہلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے ان مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بعض حصوں پر ’’غیر قانونی اور جبری قبضہ‘‘ کر رکھا ہے۔
وزارت خارجہ نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق کے معاملے پر اسلام آباد کے ’’منافقت پر مبنی وعظ‘‘ کے ’’کمزور پردے‘‘ کے پیچھے موجود حقیقت کو دیکھنا چاہیے۔
جیسوال نے کہا تھا، ’’پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں یہ نام نہاد مقامی انتخابات مکمل طور پر ایک ڈھونگ ہیں۔ اصل صورتحال عوامی احتجاج اور پاکستانی فورسز کی جانب سے بے دریغ ہلاکتوں کی ہے۔ ایسی کھوکھلی مشقیں حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔‘‘
خطے میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، جبکہ پاکستان نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں احتجاج کے دوران غیر ملکی میڈیا کی نقل و حرکت محدود کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ اس اقدام پر بین الاقوامی میڈیا تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز ۲۰۲۶ کے تحت غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سرکاری رپورٹنگ اسائنمنٹ انجام دینے سے قبل وزارت سے پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک )










