سرینگر/ ۱۰ ؍اگست
ایک پارلیمانی پینل نے جموں و کشمیر کے تمام بڑے سیاحتی مقامات کے لیے ’’مربوط سکیورٹی اور نگرانی کا فریم ورک‘‘ قائم کرنے کی سفارش کی ہے، جس میں مرکزی نگرانی کی سہولیات بھی شامل ہوں۔
جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں انتظامی حکمرانی، سماجی و اقتصادی ترقی، سرحدی سکیورٹی اور داخلی سلامتی اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرحدی سکیورٹی کے انتظام و تیاری سے متعلق اپنی رپورٹ میں پینل نے کہا کہ بین الوکالتی معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) واضح طور پر وضع کیے جائیں اور ہر بڑے سیاحتی موسم سے قبل ان کا جائزہ لیا جائے، تاکہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے پر مربوط اور بروقت ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
یہ سفارشات گزشتہ سال ۲۲ ؍اپریل کو پہلگام کی خوبصورت بائسرن وادی میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، جس میں زیادہ تر سیاحوں سمیت ۲۶ ؍افراد مارے گئے تھے۔ دہشت گردوں نے اونچائی والے علاقوں میں پناہ لے رکھی تھی۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام بڑے سیاحتی مقامات کے لیے ایک مربوط سکیورٹی اور نگرانی کا نظام تیار کیا جائے، جس میں جامع سی سی ٹی وی کوریج، مرکزی نگرانی کی سہولیات، باقاعدگی سے خطرات کا جائزہ اور وقفے وقفے سے سکیورٹی آڈٹ شامل ہوں۔
کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ بین الوکالتی معیاری عملی طریقۂ کار واضح طور پر وضع کیے جائیں اور ہر بڑے سیاحتی موسم کے آغاز سے قبل ان کا جائزہ لیا جائے، تاکہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے پر مربوط اور بروقت ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے ۱۱ سے ۱۵ مئی ۲۰۲۶ تک جموں، سرینگر، گلمرگ، سونمرگ اور کرگل کا مطالعاتی دورہ کیا تھا۔
اس دوران کمیٹی نے گلمرگ کے سیاحتی مقام پر سکیورٹی انتظامات کا ’’موقع پر جائزہ‘‘ لیا، سونمرگ میں امن و قانون کی صورتحال کے حوالے سے جموں و کشمیر پولیس کے نمائندوں سے بات چیت کی اور بھارتی فوج کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کرگل میں سرحدی سکیورٹی تنصیبات اور عملی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
جموں و کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کا ذکر کرتے ہوئے پینل نے کہا کہ اس تناظر میں سیاحتی مقامات پر سکیورٹی کا انتظام خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا براہ راست اثر تحفظ کے احساس، سیاحوں کے تجربے کے معیار اور سیاحت کے شعبے کی مسلسل ترقی پر پڑتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا، ’’کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ زیادہ تعداد میں سیاحوں کی آمد والے تمام مقامات پر خصوصی ہنگامی ردعمل یونٹس، مناسب سہولیات سے لیس ایمبولینسیں، صدمے کے علاج کی سہولیات اور واضح طور پر متعین انخلا کے راستے دستیاب کرائے جائیں۔‘‘ کمیٹی نے سکیورٹی فورسز کی مجموعی سکیورٹی اور تیاری کو سراہا۔
پینل نے مزید کہا کہ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ مراکز اور سیاحتی سہولیات پر ہنگامی رابطہ نمبرز اور حفاظتی ہدایات متعدد زبانوں میں نمایاں طور پر آویزاں کی جانی چاہئیں۔
وزارت داخلہ سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ باقاعدگی سے مشترکہ سکیورٹی آڈٹ اور خطرات کا جائزہ لیا جائے، بالخصوص سیاحتی موسم اور امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل، تاکہ سکیورٹی سے متعلق ابھرتے ہوئے خدشات کی نشاندہی کرکے ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
لداخ کے حوالے سے پینل نے جدید ہتھیاروں کے نظام، بغیر پائلٹ فضائی نظام (یو اے ایس)، کاؤنٹر یو اے ایس ٹیکنالوجیز، جدید نگرانی کے آلات، خصوصی نقل و حرکت کے پلیٹ فارمز اور ہر طرح کے علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس نے مربوط انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتوں، ڈرون مخالف نظام، محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس اور مقامی طور پر تیار کردہ بلند پہاڑی علاقوں کی ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری کی سفارش کی۔
رپورٹ میں کہا گیا، ’’کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ وزارت دفاع اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام تزویراتی اہمیت کے حامل شعبوں میں ان کی بروقت خریداری، تعیناتی اور ٹیکنالوجی میں وقفے وقفے سے جدید کاری کی جائے۔‘‘
۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










