نئی دہلی،7اگست (یو این آئی) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ آزادی کے بعد اختیار کیا گیا سوویت طرز کا مرکزی منصوبہ بندی کا نظام ہندوستانی حالات کے مطابق ثابت نہیں ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ اقتدار اور فیصلہ سازی کا اختیار چند افراد تک محدود ہو کر رہ گیا۔
جمعرات کے روز نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کے 23ویں انڈیا پالیسی فورم میں ریزرو بینک کے سابق گورنر اور سابق وزیر خزانہ سی ڈی دیشمکھ کی یاد میں منعقدہ خطبہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانے لائسنس، کوٹہ، پرمٹ راج نے انتظامی نظام میں صوابدیدی اختیارات کو غیر معمولی حد تک مرکوز کر دیا، جس کے باعث سرمایہ کاری کے فیصلے بازار کے بجائے بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی نظام کے نتیجے میں سرکاری منصوبوں میں نااہلی، اقربا پروری اور بدعنوانی کو فروغ ملا، چند اداروں کو فائدہ پہنچا، جبکہ حقیقی ہندوستانی صنعت کاری محدود ہو کر رہ گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ وکست بھارت-2047 کوئی غیر معمولی خواب نہیں بلکہ ہندوستان کے وقار اور خوشحالی کی بحالی کا عزم ہے۔ ان کے مطابق 1947 میں ملک کو تقسیم، بے دخلی، شدید غربت، غذائی عدم تحفظ اور کمزور صنعتی ڈھانچے جیسے بڑے چیلنجز ورثے میں ملے تھے، تاہم اسی دور میں اسرو، بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز، بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل) اور آئی آئی ٹیز جیسے عالمی معیار کے ادارے قائم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت کے فروغ کے لیے بڑے آبپاشی اور بجلی منصوبے شروع کیے گئے، لیکن ان پر عمل درآمد سست رفتار رہا، جبکہ برآمدات اور عالمی تجارت پر بھی مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
سیتارمن نے کہا کہ 1991 کی معاشی اصلاحات اگرچہ تاریخی تھیں، لیکن وہ ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کے باعث مجبوری میں نافذ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ وکست بھارت-2047 کے تصور کے تحت حکومت ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر چاہتی ہے جہاں غربت کا خاتمہ ہو، ہر شہری کو معیاری تعلیم اور بنیادی سہولتیں میسر ہوں، نوجوان ہنرمند اور باوقار روزگار سے وابستہ ہوں، خواتین معیشت میں مساوی شراکت دار ہوں، کسان ملک کو دنیا کا غذائی مرکز بنائیں اور ہندوستان ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کا ہدف ایک طویل تہذیبی سفر کا اہم مرحلہ ہے اور موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد رکھے۔









