نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) حکومت نے آسام میں گوہاٹی کے قریب بیہاٹا چارِیالی سے تیزپور تک قومی شاہراہ-15 راہداری پر 135.87 کلومیٹر طویل ‘ایکسیز کنٹرولڈ’ چار لین کی قومی شاہراہ کی تعمیر کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں جمعرات کے روز یہاں منعقدہ اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس منصوبے پر 8,970.20 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی) ٹول ماڈل کے تحت کی جائے گی۔ اس کے تحت تیزپور بائی پاس میں 4.9 کلومیٹر طویل ایمرجنسی لینڈنگ فسیلٹی (ای ایل ایف) بھی تیار کی جائے گی، جسے ہندستانی فضائیہ کے تعاون سے حتمی شکل دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 58.7 کلومیٹر طویل پانچ اہم بائی پاس بنائے جائیں گے، جس سے بیہاٹا چارِیالی، سیپاجھار، کھروپیٹیا، ڈھیکیاجولی اور تیزپور جیسے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ 15 بڑے پل، 30 چھوٹے پل، 19 فلائی اوور، 46 انڈر پاس، تیزپور بائی پاس میں ایک ہاتھی انڈر پاس اور تقریباً 210 کلومیٹر طویل سروس روڈ کی تعمیر کی جائے گی۔
مسٹر ویشنو نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے پر سفر کا وقت تقریباً آدھا رہ جائے گا، سفرکی اوسط رفتار دوگنی ہو جائے گی، سڑک کی سلامتی میں بہتری آئے گی، ایندھن کی بچت ہوگی اور گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات کم ہوں گے۔ اس سے آسام اور اروناچل پردیش کے صنعتی، سماجی، سیاحتی اور لوجسٹک مراکز کے درمیان رابطے بھی بہتر ہوں گے۔ اس منصوبے سے آٹھ پی ایم گتی شکتی اقتصادی نوڈس، دو امنگوں والے اضلاع، تین اہم سیاحتی مقامات اور سات لوجسٹک مراکز کو بہتر رابطے کی سہولت ملے گی۔




