نئی دہلی/پنچکولہ، 05 اگست (یو این آئی) ریزرویشن اگینسٹ کینسیلیشن (آر اے سی) ٹکٹ پر ریلوے میں سفر کرنے والے مسافروں کو بستر کٹ فراہم نہ کیے جانے یا نامکمل بستر کا سامان دیے جانے کی مسلسل مل رہی شکایتوں پر ریلوے بورڈ نے سخت موقف اپنایا ہے۔ بورڈ نے تمام زونل ریلویز کو ہدایت دی ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ کلاسز (ایئر کنڈیشنڈ چیئر کار کو چھوڑ کر) میں سفر کرنے والے ہر آر اے سی مسافر کو دیگر مسافروں کے برابر مکمل بستر کٹ، جس میں چادر، لینن اور کمبل شامل ہوں، فراہم کیا جائے۔
ریلوے بورڈ نے منگل کے روز تمام زونل ریلویز کے جنرل منیجروں کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ برسوں سے ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود آر اے سی مسافروں کو مکمل بستر کٹ فراہم نہ کرنے یا ادھورا سامان دینے سے متعلق شکایتیں اب بھی مختلف ذرائع سے موصول ہو رہی ہیں۔ ریلوے بورڈ نے اپنے 16 نومبر 2016، 12 دسمبر 2017 اور 18 دسمبر 2023 کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے دہرایا کہ ان ہدایات کی من و عن تعمیل یقینی بنائی جائے۔ تمام زونل ریلویز یہ یقینی بنائیں کہ ایئر کنڈیشنڈ کلاسز (ایئر کنڈیشنڈ چیئر کار کو چھوڑ کر) میں سفر کرنے والا ہر آر اے سی مسافر اسی ڈبے میں سفر کر رہے دیگرمسافروں کے برابر مکمل بستر کٹ حاصل کرے۔
ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں ہے، بلکہ پہلے سے نافذ العمل ہدایات کی سختی سے تعمیل یقینی بنانے کے لیے جاری کیا گیا حکم ہے۔ بورڈ نے متعلقہ حکام کو ان ہدایات سے آگاہ کرنے اور ٹرینوں میں مسافروں کو خدمات فراہم کرنے والے عملے کے ذریعے ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے اپنے سابقہ احکامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2009 میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ چونکہ آر اے سی مسافروں سے بھی کرائے کے ساتھ بستر کے چارجز لیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں ایئر کنڈیشنڈ کلاسز میں بستر کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے بعد سال 2016 میں ہر آر اے سی مسافر کو مکمل بستر کٹ دینے کا حکم جاری کیا گیا۔ شکایتیں جاری رہنے پر 2017 اور 2023 میں بھی تعمیل یقینی بنانے کے لیے ہدایات دہرائی گئیں، لیکن شکایتیں ختم نہ ہونے کی وجہ سے اب ایک بار پھر تمام زونز کو سختی سے ان پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔









