نئی دہلی، 05 اگست (یو این آئی) کانگریس نے فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) بل کی موجودہ شکل کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ پارٹی اور پوری اپوزیشن اسے موجودہ شکل میں قبول نہیں کرے گی اور سب مل کر اس کی بھرپور مخالفت کریں گے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور پوری اپوزیشن ایف سی آر اے بل کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے لیے الگ نظام اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے الگ قوانین رکھنے کی سوچ قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس ‘جابرانہ بل کو پاس نہیں ہونے دے گی۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا، "لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایف سی آر اے بل کے سلسلے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی اور پوری اپوزیشن کا موقف بالکل واضح ہے کہ ایف سی آر اے بل کو اس کی موجودہ شکل میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ آر ایس ایس سب کچھ کر سکتا ہے، جبکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے لیے الگ قوانین ہوں، ایسی سوچ قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم اس جابرانہ بل کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اسے کسی بھی قیمت پر پاس نہیں ہونے دیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس پہلے سے ہی رام مندر چندہ تنازع پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ پورا ملک اس مسئلے کو لے کر فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کو طالب علموں پر مبینہ مظالم اور فائرنگ کے مسئلے پر ایوان میں آ کر بیان دینا چاہیے۔ پارلیمنٹ بحث اور گفتگو کی جگہ ہے، لیکن حکومت بحث سے بچتے ہوئے بلوں کو جلد بازی میں پاس کرانا چاہتی ہے۔
اس دوران کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ حکومت عوام اور اپوزیشن کی آواز نہیں سن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن طالب علموں پر مبینہ حملے، ای-20 مسئلے، جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے نیز رام مندرچڑھاوا تنازع جیسے عوامی مفاد کے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھا رہی ہے، لیکن حکومت بحث کرانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آ کر اپنا بیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ بحث سے ہی حل نکلے گا اور ایوان میں موجود نہ ہو کر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں۔









