ایل جی سنہا کا آئی یو ایس ٹی میں موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس سے خطاب، قدرتی نظام کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا مرکز بنانے پر زور
ہمالیائی خطے میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اپنانے کی تلقین
(ڈی آئی پی آر)
سری نگر؍۳؍اگست
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ قدرتی نظام کا تحفظ ہی محفوظ اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل کی تباہی دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے، جبکہ ان کا تحفظ اور بحالی ایک روشن اور محفوظ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
سنہا نے آج اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے ’قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کے ذریعے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی لچک اور ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانے‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں سول اور مکینیکل انجینئرنگ بلاک، لارمو کیمپس اور لا اسکول کا بھی افتتاح کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے آئی یو ایس ٹی کو اس کے اقدامات پر مبارکباد پیش کی اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم سے متعلق یونیورسٹی کی پالیسی بریف کی ستائش کی۔
سنہا نے ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کی تشویشناک رفتار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جنوری سے اگست کے درمیان ہمالیہ میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی قدرتی آفت رونما ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی اچانک آنے والے سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات نے عوامی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث سڑکیں، پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور بجلی کے فیڈر متاثر ہوئے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ترقی اور تحفظِ ماحول کے درمیان کوئی تضاد نہیں، بلکہ خود قدرت ہی ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔
ایل جی نے کہا’’مثال کے طور پر، کسی آبی ذخیرہ گاہ (واٹرشیڈ) کی تعمیر سیلاب پر قابو پانے کا ایک مؤثر نظام بھی ہے۔ یہ ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے جو پانی کو صاف کرنے کے نظام کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور آبپاشی کے نظام کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، کوئی آبی ذخیرہ یا دلدلی علاقہ (ویٹ لینڈ) قدرت کا عظیم ذخیرۂ آب ہے، کیونکہ یہ مانسون کے دوران اضافی پانی جذب کرتا ہے اور پھر خشک مہینوں میں آہستہ آہستہ اردگرد کے علاقوں کو زندگی بخشتا ہے۔ گھنے جنگلات سے ڈھکی پہاڑی ڈھلان درحقیقت ایک مضبوط دیوار کی مانند ہے جو پورے پہاڑ کو نیچے واقع دیہات پر گرنے سے بچاتی ہے۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ جب ہم ان قدرتی نظاموں کو تباہ کرتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل سے کھیل رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم ان قدرتی نظاموں کا تحفظ اور ان کی بحالی کرتے ہیں تو ہم ایک روشن مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس دانوں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ترقیاتی منصوبہ بندی کے حاشیے سے نکال کر اس کا مرکزی حصہ بنائیں۔ انہوں نے پالیسی سازوں، سائنس دانوں اور انجینئروں کے سامنے چھ اہم سفارشات بھی پیش کیں۔
ایل جی نے کہا’’گلیشیئرز کے سکڑاؤ، چشموں کے بہاؤ، مٹی کی صحت اور جنگلاتی رقبے کی نگرانی کے لیے ریموٹ سینسنگ، جغرافیائی معلوماتی نقشہ سازی (جیو اسپیشل میپنگ) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کا استعمال کیا جائے۔ اس ڈیٹا کو خطے کے ہر ترقیاتی منصوبے کی بنیاد بنایا جائے۔ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو منصوبوں کے بجٹ، جانچ اور نگرانی کے نظام میں شامل کیا جائے۔ کسانوں، چرواہوں، باغبانوں اور قبائلی برادریوں کو مساوی شراکت دار بنایا جائے کیونکہ دریاؤں، پہاڑوں اور جنگلات کے بارے میں ان کا نسلی اور روایتی علم نہایت قیمتی ہے۔ سالانہ بجٹ جائزوں میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ جنگلات اور ماحولیاتی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں یا کمزور، تاکہ ماحولیاتی دولت کے تحفظ کے حوالے سے جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔ سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور مقامی برادریوں کے درمیان طویل مدتی تعاون کے لیے پلیٹ فارم قائم کیے جائیں۔ صرف کنکریٹ کے پشتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیلابی میدانوں اور دلدلی علاقوں کی بحالی کی جائے تاکہ تعمیر شدہ ڈھانچوں اور قدرتی نظاموں کو یکجا کیا جا سکے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ قدرتی بنیادوں پر مبنی حل کو ایک کثیر الشعبہ مضمون کی حیثیت دیں، جس میں ماحولیات، آبیات، انجینئرنگ، معاشیات، آفات سے نمٹنے کے انتظامات اور روایتی علم کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے پیشہ ور افراد کو ماحولیاتی نظام، معیشت، ٹیکنالوجی اور معاشرے کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہوگا۔
سنہ۲۰۲۰ میں شروع کی گئی گرین جموں و کشمیر ڈرائیو کا ذکر کرتے ہوئے، جس کے نتیجے میں جنگلاتی رقبہ تقریباً۵۵ فیصد تک پہنچ گیا، لیفٹیننٹ گورنر نے پائیدار طرزِ زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے ہمالیہ کا تصور پیش کیا جہاں آبی ذخائر زیادہ صحت مند ہوں، دلدلی علاقے فروغ پائیں اور دریا قدرتی انداز میں بہتے رہیں، تاکہ حیاتیاتی تنوع اور ثقافت کو دوام حاصل ہو۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’اگر ہم ترقی کے مرکز میں قدرت کو رکھیں، جدید ٹیکنالوجی کو روایتی دانش کے ساتھ ہم آہنگ کریں اور مقامی برادریوں کو مساوی شراکت دار بنائیں تو ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر لچک پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمالیہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے، جو دور اندیشی، صبر اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے‘‘۔
اس موقع پرسنہا نے آئی یو ایس ٹی کے ماہانہ جریدے ’ٹائمز ایکو‘ کا منشیات کے خلاف۱۰۰ روزہ مہم پر مبنی خصوصی شمارہ اور مختلف ماہرینِ جموں و کشمیر کی جانب سے تیار کردہ نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان سے متعلق پالیسی بریف جاری کیا۔ اس موقع پر پردھان منتری کوشل وکاس یوجناکے تربیت یافتگان میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
تقریب میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سنجیو کمار، آئی یو ایس ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل اے رومشو، رجسٹرار پروفیسر شمیم احمد شاہ، کانفرنس کے کنوینر پروفیسر جاوید حسین میر، ممتاز سائنس دانوں، ماہرین، سینئر افسران، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔









