کشمیر کے مسئلے پر پاکستان نے گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے خود کو کشمیری عوام کا وکیل، محافظ اور انسانی حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی فورموں پر اسلام آباد کا بیانیہ ہمیشہ یہی رہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، ان کی آواز دبائی جا رہی ہے اور ان پر ظلم و جبر ڈھایا جا رہا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بیانیہ خود پاکستان کے اپنے اقدامات کی وجہ سے کمزور ہی نہیں بلکہ تقریباً زمین بوس ہو چکا ہے۔ آج پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ خود اسلام آباد کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے اور دنیا کے سامنے اس کا دوہرا معیار بے نقاب کر رہا ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری اسمبلی انتخابات کے دوران احتجاجی مظاہروں کو جس بے رحمی سے کچلا گیا، اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہاں جمہوریت صرف نام کی چیز ہے۔ اطلاعات کے مطابق پرامن مظاہرین پر فائرنگ، متعدد ہلاکتیں، سیکڑوں افراد کا زخمی ہونا، انٹرنیٹ کی معطلی اور سخت سیکورٹی کریک ڈاؤن اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ اسلام آباد اپنے زیر قبضہ علاقے میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر پاکستان واقعی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر یقین رکھتا ہے تو پھر اپنے زیر قبضہ علاقے کے شہریوں کو آزادانہ احتجاج اور اظہار رائے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی سیاسی ساخت بھی اس کے دعوؤں کی حقیقت کھول دیتی ہے۔ بظاہر وہاں ایک منتخب اسمبلی موجود ہے، لیکن اس اسمبلی کی تشکیل کا طریقہ ایسا ہے کہ حقیقی اختیار اسلام آباد کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ ۵۳ رکنی اسمبلی میں صرف ۴۵ ارکان منتخب ہوتے ہیں جبکہ آٹھ ارکان نامزد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ۱۲ نشستیں ایسے نام نہاد مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو برسوں پہلے اس علاقے سے جا چکے ہیں اور جن کے ذریعے اسلام آباد اپنی مرضی کی حکومت قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقامی عوام کا الزام ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے ہر دور میں وفاقی حکومت اپنی پسند کی جماعت کو اقتدار میں لاتی ہے، جس سے مقامی رائے کی حقیقی نمائندگی ختم ہو جاتی ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پاکستان واقعی اس علاقے کو ایک آزاد اور خودمختار خطہ سمجھتا ہے تو پھر اس کے لیے اسلام آباد میں الگ وزارت کیوں قائم ہے؟ پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی کیوں نہیں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں کے منتخب نمائندوں کو حلف اٹھاتے وقت پاکستان سے الحاق کے نظریے کی وفاداری کا اقرار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ۱۹۷۴ء کے آئینی انتظامات کے ذریعے وہاں کسی بھی ایسے سیاسی نظریے پر پابندی لگا دی جو پاکستان سے الحاق کے خلاف ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ آزادی کی بات کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے سیاسی متبادل کی۔ ایسے حالات میں حق خود ارادیت کا دعویٰ محض ایک سیاسی نعرہ رہ جاتا ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں عوامی ناراضی صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ مہنگائی، آٹے اور ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی پر اضافی محصولات، طویل لوڈشیڈنگ، بنیادی سہولتوں کی کمی اور مقامی وسائل پر اسلام آباد کے کنٹرول نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ نیلم جہلم سمیت بڑے آبی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان کو فراہم کی جاتی ہے، مگر مقامی آبادی کو اسی بجلی کے لیے اضافی محصولات ادا کرنا پڑتے ہیں۔ یہی محرومیاں گزشتہ دو برسوں سے احتجاج کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہیں۔
پاکستانی حکومت نے ہمیشہ کی طرح ان احتجاجوں کو بھی بیرونی سازش قرار دینے کی کوشش کی۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے مظاہرین کو’بھارت کے ایجنٹ‘ قرار دیا اور ان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ یہ طرز عمل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نیا نہیں۔ جب بھی عوام اپنے بنیادی حقوق یا جمہوری مطالبات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں غدار، بیرونی ایجنٹ یا دشمن قوتوں کا آلہ کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔
یہ تمام واقعات پاکستان کے اس بیانیے کو بھی سخت نقصان پہنچاتے ہیں جو وہ برسوں سے جموں و کشمیر کے حوالے سے پیش کرتا آیا ہے۔ اگر کسی ملک کو انسانی حقوق، جمہوریت اور عوامی آزادیوں کی واقعی فکر ہوتی تو وہ سب سے پہلے اپنے زیر انتظام علاقوں میں ان اصولوں پر عمل کرتا۔ لیکن پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں انتخابات پر سوالات، سیاسی انجینئرنگ، اظہار رائے پر پابندیاں، طاقت کا بے دریغ استعمال اور فوجی اثر و رسوخ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام آباد کا کشمیر بیانیہ اصولوں سے زیادہ سیاسی مفادات پر مبنی رہا ہے۔
دنیا بھی اب اس حقیقت کو زیادہ واضح انداز میں دیکھ رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی دلچسپی اقوام متحدہ کی پرانی قراردادوں سے بہت حد تک ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ کشمیر کو زیادہ تر شملہ معاہدے کی روح کے مطابق دوطرفہ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان خود بھی ان قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ جن شرائط کے تحت استصواب رائے کی بات کی گئی تھی، ان میں سے بنیادی شرائط کبھی پوری ہی نہیں کی گئیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی حکومت کی ساکھ اس کے اپنے طرز عمل سے بنتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرتا تو سب سے پہلے اپنے زیر قبضہ علاقے میں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں، شفاف انتخابات، انسانی حقوق کے تحفظ اور حقیقی خودمختاری کو یقینی بناتا۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری صورتحال اس امر کی واضح یاد دہانی ہے کہ محض بلند بانگ دعوے اور بین الاقوامی بیانات کسی ریاست کو اخلاقی برتری نہیں دے سکتے۔ اخلاقی برتری کا معیار عملی اقدامات ہوتے ہیں۔ جب اپنے ہی زیر قبضہ علاقے میں عوام کو بنیادی سیاسی اور شہری حقوق میسر نہ ہوں، احتجاج کو گولیوں سے جواب دیا جائے، اختلاف کو غداری قرار دیا جائے اور انتخابات پر اعتماد باقی نہ رہے تو پھر دوسروں کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا سبق دینا محض منافقت محسوس ہوتا ہے۔
آج پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے حالات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اسلام آباد کا برسوں پرانا کشمیر بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے ۔ جس ریاست نے خود کو کشمیریوں کی آواز قرار دیا تھا، آج اسی پر اپنے زیر قبضہ کشمیری عوام کی آواز دبانے کے الزامات لگ رہے ہیں۔



