تہران، 27 جولائی (یو این آئی) 2026): اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا جب کہ ایم او یو کے مطابق امریکا منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا فعال طور پر تبادلہ کیا جا رہا ہے، پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا حملے کے دوران تہران کی اوّلین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع ہے، انھوں نے بتایا کہ ایران نے 30 دنوں میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا امریکہ نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز رانی واقعات کو بہانہ بنا کر حملے شروع کر دیے، اس طرح ایک سال میں تیسری مرتبہ مذاکرات کے دوران حملوں سے ایران کی سفارت کاری کو دھوکہ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر قریب دو ہفتے سے جاری حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔







