پانچ کلومیٹر ریڈنگ میراتھن کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا؛ کہا تعلیم، صحت، ماحولیات اور سماجی ذمہ داری کو یکجا کرنا وقت کی ضرورت
ڈی آئی پی آر
سرینگر؍۲۵ جولائی
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں پانچ کلومیٹر طویل ’ریڈنگ میراتھن‘ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں، مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک سرسبز و صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
طلبہ، اساتذہ، ماہرین تعلیم اور دیگر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ریڈنگ میراتھن کو علم، جسمانی صحت اور ماحولیاتی ذمہ داری کا منفرد امتزاج قرار دیا۔
سنہا نے کہا، ’’یہ میراتھن علم حاصل کرنے کی ثقافت اور فطرت کے تئیں ہماری ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر سے آئے سینکڑوں طلبہ کا جوش و خروش اس خطے کے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
ایل جی نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) تعلیم کو صرف کلاس روم اور نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم سماجی ذمہ داری اور عملی کردار کی صورت میں نظر آئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’تعلیم صرف کتابوں یا چار دیواری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا اظہار کھیل، سماجی خدمات، صحت مند طرزِ زندگی اور ذمہ دار شہری بننے میں ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے ریڈنگ میراتھن کو قومی تعلیمی پالیسی کے وژن کی عملی تعبیر قرار دیا۔
چنار بک فیسٹیول کے موضوع ’’سبز مستقبل کے لیے دوڑ‘‘ اور نعرے ’’منشیات کو نہ، کتابوں کو ہاں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس اقدام نے زندگی کے تین اہم پہلوؤں کو یکجا کیا ہے، جن میں پانچ کلومیٹر دوڑ کے ذریعے جسمانی صحت، مطالعے کے ذریعے ذہنی و فکری نشوونما اور پائیدار طرزِ زندگی کے ذریعے ماحولیاتی شعور شامل ہیں۔
سنہا نے کہا کہ مطالعہ انسان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے اور فکری صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے، جبکہ دوڑ جسمانی قوت اور نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ماحول کا تحفظ ناگزیر ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’کتابوں میں موسمیاتی تبدیلی یا صحت کے بارے میں پڑھنا آسان ہے، لیکن حقیقی تعلیم اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم اس پر عمل کریں، خواہ وہ صحت کے لیے دوڑنا ہو، ماحول کا تحفظ ہو یا خود کو منشیات سے دور رکھنا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مثبت سماجی تبدیلی کے سفیر بنیں، مطالعے کو روزانہ کی عادت بنائیں، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کریں اور میراتھن کے بعد بھی سماج کی خدمت جاری رکھیں۔
سنہا نے کہا کہ یہی اقدار ذمہ دار شہریوں کی تشکیل کریں گی، جو ملک کی تعمیر و ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔
۲۶ جولائی کو منائے جانے والے کرگل وجے دیوس کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے۱۹۹۹کی کرگل جنگ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور نوجوانوں سے ان کی جرأت، قربانی اور حب الوطنی سے سبق لینے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی بہادر سپاہی، جن میں کیپٹن وکرم بترا، کیپٹن منوج کمار پانڈے اور کیپٹن انوج نیر شامل ہیں، صرف۲۰ سے۲۵ برس کی عمر میں وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔
ایل جی نے کہا، ’’ان جانبازوں نے ہمیں ’سب سے پہلے وطن‘، نظم و ضبط، قائدانہ صلاحیت اور کبھی ہمت نہ ہارنے کا سبق دیا۔ یہ اقدار ہر ہندوستانی نوجوان کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہنی چاہئیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نیشنل بک ٹرسٹ کے ڈائریکٹر یوراج ملک اور ان کی ٹیم کی بھی ستائش کی کہ انہوں نے ہزاروں نوجوانوں کو مطالعے کے فروغ، صحت مند طرزِ زندگی اور سماجی شعور کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا۔










