یو پی ایس سی، ایس ایس سی، این ٹی اے سمیت تمام مرکزی امتحانات پر ہوگا اطلاق‘ این ٹی اے کے۴۷ ؍اہلکار برطرف
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۴ جولائی
وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد مرکزی کابینہ نے جمعہ کو پیپر لیک کے واقعات پر سخت سزائیں یقینی بنانے کے لیے ایک مسودۂ بل کی منظوری دے دی۔
مرکزی حکومت نے۲۰۲۴ میں بھی اسی نوعیت کا ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا، جب ملک میں پیپر لیک کے واقعات، خصوصاً نیٹ(این ای ای ٹی)اورنٹ(این ای ٹی) امتحانات کے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے تنازعات نے شدت اختیار کر لی تھی۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے دی پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ‘۲۰۲۴ کو منظوری دیے جانے کے تقریباً چار ماہ بعد، جون۲۰۲۴ میں اس قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا، جب مبینہ نیٹ اور نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔
اس قانون سے قبل مرکزی حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عوامی امتحانات میں نقل، دھوکہ دہی اور دیگر بے ضابطگیوں سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں تھا۔
اس قانون کا مقصد یونین پبلک سروس کمیشن‘اسٹاف سلیکشن کمیشن‘ ریلوے، بینکنگ بھرتی کے امتحانات، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور دیگر مرکزی اداروں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
اس سے قبل پیش کیے گئے بل میں نقل اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے کم از کم تین سے پانچ سال قید کی سزا کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ منظم انداز میں دھوکہ دہی یا پیپر لیک جیسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے پانچ سے دس سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔
بل میں عوامی امتحانات منعقد کرنے والے اداروں کو دیگر سرکاری ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے، ضابطے، معیارات اور رہنما خطوط مرتب کرنے، اور امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع یا جرائم سے متعلق واقعات کی لازمی رپورٹنگ جیسے انتظامات کی بھی گنجائش فراہم کی گئی تھی۔
اس دوران مرکزی حکومت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق آئندہ ایک ماہ کے دوران این ٹی اے کے ڈھانچے میں مکمل تبدیلی کی جائے گی تاکہ امتحانی نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور محفوظ بنایا جا سکے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق این ٹی اے سے کم از کم۴۷ اہلکاروں کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ ان میں سے بعض کے خلاف مزید کارروائی بھی کی جائے گی، تاہم ان کے عہدوں یا ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اصلاحاتی عمل کے تحت این ٹی اے کے آؤٹ سورسنگ نظام میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ امتحانات کے انعقاد کا نظام مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور پرچہ لیک ہونے کے امکانات کا خاتمہ ہو۔
یہ پیش رفت وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں سمیت سخت اقدامات کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے۲۰۱۷میں این ٹی اے کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا تھا، جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے اور فیلوشپ کے لیے قومی سطح کے امتحانات منعقد کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی این ٹی اے کو مزید مؤثر اور جدید ادارہ بنانے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ این ٹی اے اس وقت جے ای ای نیٹ ‘سی یو ای ٹی سمیت کم از کم۲۰ قومی سطح کے امتحانات منعقد کرتی ہے۔
این ٹی اے میں یہ اصلاحات امتحانی نظام کا وسیع جائزہ لینے کی حکومتی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مستقبل میں پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد کیا گیا، جسے طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔
ادھر مرکزی کابینہ نے جمعہ کو پیپر لیک کے جرائم پر مزید سخت سزائیں تجویز کرنے والے ایک ترمیمی بل کی بھی منظوری دی ہے۔
بل کے تحت دی پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ‘۲۰۲۴ میں ترمیم کرتے ہوئے منظم انداز میں پیپر لیک کے جرائم پر سزا پانچ سال سے بڑھا کر دس سال قید جبکہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ دس کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق موجودہ قانون کا مقصد یو پی ایس سی، ایس ایس سی، نیٹ، جے ای ای اور سی یو ای ٹی سمیت مختلف بھرتی اور داخلہ امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام ہے، جبکہ نئی ترمیم کا ہدف ایسے منظم گروہوں اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے جو مالی فائدے کے لیے امتحانی بدعنوانیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کے تحت امیدواروں کے مفادات کا بھی مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
دریں اثنا، کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری احتجاجی مہم میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی بے ضابطگیوں کی جوابدہی، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور گزشتہ مئی میں نیٹ،یو جی پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔










