جموں و کشمیر میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتیں جس تیزی سے آسمان چھو رہی ہیں، اس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ گوشت، مرغ، انڈے، سبزیاں اور پھل جیسے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہے ہیں، وہیں حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اس خاموشی نے عوام کے دلوں میں یہ احساس مزید گہرا کر دیا ہے کہ حکومت کو لوگوں سے جڑے بنیادی مسائل کے حل میں کوئی سنجیدہ دلچسپی نہیں۔
قیمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں، مگر گزشتہ تقریباً چھ ماہ کے دوران گوشت کی قیمتوں میں سو سے ایک سو بیس روپے فی کلو تک اضافہ ایک غیر معمولی معاملہ ہے۔ چند ماہ قبل جو گوشت سات سو روپے فی کلو کے قریب دستیاب تھا، آج وہ آٹھ سو سے آٹھ سو بیس روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک دن یا ایک ہفتے میں نہیں ہوا بلکہ بتدریج قیمتیں بڑھتی رہیں، لیکن حکومت کی طرف سے نہ کوئی مؤثر مداخلت دیکھنے میں آئی اور نہ ہی بازاروں میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی سنجیدہ کارروائی کی گئی۔ عوام نے بارہا شکایت کی، مگر سرکاری مشینری کی خاموشی برقرار رہی۔
اسی طرح مرغی کی قیمتیں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ زندہ مرغ دو سو سے دو سو بیس روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ انڈوں کی ایک ٹرے تقریباً ڈھائی سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ وہ اشیاء ہیں جو کبھی عام آدمی کے لیے نسبتاً سستی غذائیں سمجھی جاتی تھیں، مگر آج وہ بھی متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں، لیکن حکومت خاموش ہے۔
اگر سبزیوں کی بات کی جائے تو صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک نظر آتی ہے۔ آلو، ٹماٹر، پیاز، بینگن، مٹر اور دیگر روزمرہ استعمال ہونے والی سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک عام گھرانے کے لیے روزانہ سبزی خریدنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بازار میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے قیمتیں صارفین کا استقبال کرتی ہیں اور خالی جیبیں انہیں مایوس کر دیتی ہیں۔ لیکن حکومت خاموش ہے۔
پھل، جو کبھی ہر گھر کی دسترخوان کا حصہ ہوا کرتے تھے، اب رفتہ رفتہ ایک آسائش بنتے جا رہے ہیں۔ سیب، انگور، آم، انناس اور دیگر موسمی پھلوں کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ ایک عام مزدور، ملازم یا پنشن یافتہ شخص انہیں خریدنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پھل خریدنا اب ہر خاندان کے بس کی بات نہیں رہی، لیکن حکومت خاموش ہے۔
بازاروں میں قیمتوں کے تعین کا کوئی واضح نظام دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ہی چیز مختلف علاقوں میں مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر دکاندار اپنی مرضی سے قیمت مقرر کر رہا ہو۔ تاجر تنظیمیں بھی اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ مارکیٹ میں مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ اگر قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی ہو، تھوک فروشوں سے لے کر پرچون فروشوں تک سب کی جواب دہی طے کی جائے اور مقررہ نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تو یقیناً عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ لیکن حکومت خاموش ہے۔
پرچون فروشوں کا مؤقف بھی اپنی جگہ قابل غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ تھوک منڈیوں میں قیمتوں کے اضافے سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے مہنگا مال خریدنے کے بعد ان کے پاس معمولی منافع رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بنانے کے بجائے پورے سپلائی چین کا جائزہ لیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر قابو پائیں اور تھوک سطح پر قیمتوں کی نگرانی کریں۔ افسوس کہ اس سمت میں بھی کوئی مؤثر قدم دکھائی نہیں دیتا۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کشمیر جیسی بااثر تجارتی تنظیم نے بھی قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ مختلف بازاروں میں ایک ہی شے مختلف قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نگرانی کا فقدان ہے۔ اگر تاجر برادری بھی سرکاری نگرانی کو ناکافی قرار دے رہی ہے تو یہ معاملہ مزید سنجیدگی اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
عام لوگوں کی شکایت بھی بجا ہے کہ بازاروں کی جانچ صرف عید یا دیگر مذہبی تہواروں کے موقع پر ہوتی ہے، باقی پورا سال کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ چند روز کے لیے چھاپے مارنا اور پھر مہینوں تک خاموش رہنا کسی بھی صورت مؤثر حکمت عملی نہیں کہلا سکتا۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سال بھر مستقل نگرانی، اچانک معائنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب بنیادی غذائی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو اس کے اثرات بچوں کی غذائیت، عوامی صحت، سماجی استحکام اور مجموعی معیار زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ آج بے شمار خاندان گوشت کی خرید کم کر چکے ہیں، کئی گھرانوں نے مرغی اور انڈے بھی محدود کر دیے ہیں جبکہ پھل خریدنا تو تقریباً ترک ہی کر دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال آنے والے وقت میں صحت عامہ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی تمام تر توجہ شاید دیگر معاملات پر مرکوز ہے جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہی ہوتا ہے کہ وہ عام آدمی کی زندگی کو کتنا آسان بناتی ہے۔ اگر لوگ روزانہ استعمال کی اشیاء خریدنے سے قاصر ہوں اور حکومت محض تماشائی بنی رہے تو عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنا ایک فطری امر ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر حرکت میں آئے۔ بازاروں میں روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، تھوک اور پرچون دونوں سطحوں پر قیمتوں کا جائزہ لیا جائے، سرکاری نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متعلقہ محکموں کی جواب دہی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ صارفین کو معلوم ہو کہ کسی بھی شے کی سرکاری قیمت کیا ہے اور اگر کوئی اس سے زیادہ وصول کرے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو۔
عوام حکومت سے کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ناجائز منافع خوری سے تحفظ دیا جائے اور ان کی روزمرہ زندگی کو مزید دشوار نہ بنایا جائے۔ اگر حکومت اب بھی خاموش رہی تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ اسے عوامی مسائل کے حل سے زیادہ کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک ذمہ دار حکومت کی خاموشی کبھی کبھی خود مہنگائی سے بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ عوام کو صرف ریلیف ہی نہیں بلکہ یہ احساس بھی چاہیے کہ ان کے دکھ درد کو سننے اور ان کے مسائل حل کرنے والا کوئی موجود ہے۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ عوام چیخ رہے ہیں، بازار بے لگام ہیں، قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں… آخر حکومت کب تک خاموش رہے گی؟





