جموںکشمیر میں منشیات اور نارکو دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی‘ایل جی منوج سنہا کااعلان
۲۰ہزار سے زائد مقدمات درج‘۹۲ منشیات نیٹ ورک تباہ۱۹۰‘کروڑ روپے کی جائیداد ضبط؛ منشیات فروشوں کو آخری وارننگ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۱ جولائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور۱۰۰ روزہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ محض آغاز ہے، اصل جدوجہد ابھی جاری رہے گی۔ انہوں نے منشیات فروشوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں اور نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔
سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں۱۰۰ روزہ مہم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب کا آغاز راجوری، پونچھ اور ڈوڈہ میں حالیہ فلیش فلڈ کے نتیجے میں جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے کیا۔
سنہا نے سوگوار خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے شبانہ روز امدادی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
انسدادِ منشیات مہم پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا’’۱۰۰ روزہ مہم صرف آغاز ہے۔ ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی۔ آگے کا سفر طویل اور چیلنجوں سے بھرپور ہے، جسے مزید عزم کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے چار برس قبل نشہ مکت بھارت ابھیان شروع کیا تھا، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مسلسل ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انسدادِ منشیات مہم کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کئی برسوں سے منشیات کے خلاف کارروائیاں کر رہی تھی، لیکن نوجوانوں میں بڑھتی نشے کی لت کو دیکھتے ہوئے پورے جموں و کشمیر میں خصوصی۱۰۰ روزہ مہم شروع کی گئی۔
ایل جی نے بتایا کہ مہم کے دوران وہ تمام۲۰ اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں اور نشے سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ہے۔انہوں نے کہا’’میں نے والدین کا درد، ماؤں کی بے بسی اور ان خاندانوں کی امید دیکھی جو اپنے پیاروں کی معمول کی زندگی میں واپسی کے منتظر ہیں۔ جموں و کشمیر میں اپنے چھ برس کے دوران میں نے اتنی بڑی عوامی تحریک پہلے کبھی نہیں دیکھی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ ابتدا میں یہ سرکاری مہم تھی، مگر بعد میں عوام کی بھرپور شرکت کے باعث یہ ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔انہوں نے مہم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران۲۰ ہزار۲۹۲ مقدمات درج کیے گئے‘۹۲ منشیات نیٹ ورک تباہ کیے گئے‘۴ ہزار۴۷۴ منشیات کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی، جبکہ۱۸۸ کروڑ۹۰ لاکھ روپے مالیت کی منشیات فروشوں کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ پی آئی ٹی۔این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت بھی سخت کارروائیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ۸۸۴ ڈرائیونگ لائسنس‘۶۸۷ گاڑیوں کی رجسٹریشن‘۶۴ پاسپورٹس، آٹھ اسلحہ لائسنس منسوخ یا معطل کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ متعلقہ معاملات میں سکیورٹی واپس لینے کی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔
سنہا نے منشیات فروشوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں سرگرم نارکو دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایل جی نے کہا’’یہ ان لوگوں کے لیے آخری وارننگ ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بچ جائیں گے۔ جو لوگ ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں منشیات کے ذریعے تباہ کرتے ہیں، وہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ اگر آپ دوسروں کی زندگی برباد کریں گے تو قانون آپ کو بھی نہیں بخشے گا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشوں کے بارے میں معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں اور اس سماجی برائی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سول سوسائٹی منشیات فروشوں کا سماجی بائیکاٹ کرے، کیونکہ عوامی تعاون کے بغیر منشیات سے پاک جموں و کشمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
سنہا نے منشیات کے عادی افراد کی بازآبادکاری اور علاج کی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نشے سے محفوظ رکھنے میں ماؤں اور خواتین کے کردار کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔
آخر میں منوج سنہا نے کہا کہ جس طرح ملک بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کر رہا ہے، اسی عزم کے ساتھ منشیات کے کاروبار اور اس سے جڑی دہشت گردی کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔
ایل جی نے واضح کیا’’یہ مہم ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف آغاز ہے۔ ہم سب مل کر اس مشن کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک جموں و کشمیر کو منشیات کے ناسور سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔‘‘










