(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۰جولائی
حکومتی ذرائع نے پیر کو کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) اپنی موجودہ شکل میں دوبارہ نافذ نہیں ہوگا اور جب تک پاکستان بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی حمایت مکمل طور پر بند نہیں کرتا، اس وقت تک اس معاہدے کے تحت آبی تعاون کی بحالی ممکن نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدے کو دوبارہ فعال کرنا ہو تو اسے موجودہ شکل کے بجائے نئے اور ترمیم شدہ ڈھانچے کے تحت ازسرنو طے کرنا ہوگا، تاہم یہ عمل بھی اسی صورت ممکن ہوگا جب پاکستان مستقل طور پر دہشت گردی کی حمایت ترک کرے۔
حکومتی ذرائع نے کہا کہ پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کیے جانے کے باعث وہاں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ملنے والے پانی کا بڑا حصہ ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، پانی کے ضیاع اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعات کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت اس وقت سندھ طاس معاہدے سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے پر غور نہیں کر رہا، تاہم ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے اسے ہر ایسے معاہدے سے الگ ہونے کا حق حاصل ہے جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ثابت ہو۔
ایک ذریعے نے کہا’’معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ پاکستان کے آئندہ طرزِ عمل پر منحصر ہوگا‘‘۔
یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں۲۶ شہری ہلاک ہوئے تھے، پاکستان کے خلاف سفارتی اور اقتصادی اقدامات کے تحت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ حملہ دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے کیا تھا، جسے پاکستان میں قائم لشکر طیبہ کا ایک ذیلی گروپ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مئی میں بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ایک ذریعے نے کہا’’یہ کہنا درست ہوگا کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی موجودہ شکل میں دوبارہ نافذ نہیں ہوگا۔ اگر پانی کی تقسیم سے متعلق دفعات کو بحال کرنا ہے تو انہیں موجودہ صورت میں نہیں بلکہ نئے طریقۂ کار کے تحت نافذ کرنا ہوگا، اور وہ بھی صرف اسی صورت میں جب پاکستان دہشت گردی ترک کرے‘‘۔
ذرائع نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور دریاؤں کا پانی روکنے کی صورت میں جنگ جیسے بیانات دے کر بھارت کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔
ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو جبکہ سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ معاہدہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر رن آف دی ریور نوعیت کے پن بجلی منصوبے، جیسے کشن گنگا اور رتلے، تعمیر کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔
حکومتی ذرائع نے کہا کہ۱۹ ستمبر۱۹۶۰ کو نو برس کے مذاکرات کے بعد ہونے والے اس معاہدے میں ترمیم کی ضرورت پر بھارت پہلے بھی زور دیتا رہا ہے، کیونکہ پاکستان نے متعدد آبی منصوبوں پر مسلسل اعتراضات اٹھا کر معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر پہلے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کا مطالبہ کیا، لیکن بعد میں یکطرفہ طور پر اپنا مؤقف بدل کر معاملہ ثالثی عدالت میں لے گیا، جبکہ بھارت نے اس عدالت کو تسلیم نہیں کیا۔
ایک اور ذریعے نے کہا کہ بھارت کو اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی۱۲۶۷پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد اور تنظیمیں اب بھی پاکستان میں کھلے عام سرگرم ہیں، عوامی اجتماعات میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنے پیغامات پھیلا رہی ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق بھارتی ایجنسیوں کے پاس موجود معلومات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی روکنے کے لیے پاکستان نے اب تک کوئی مؤثر اور قابلِ اعتماد قدم نہیں اٹھایا۔
حکومتی ذرائع نے الزام لگایا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز سے ہی پاکستان نے تعاون کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ ان کے مطابق مغربی دریاؤں پر بھارت کے تقریباً ہر منصوبے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پر پاکستان نے اعتراضات کیے، حتیٰ کہ دور دراز قبائلی علاقوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جانے والے۲۰۰کلو واٹ کے ایک چھوٹے پن بجلی منصوبے کو بھی طویل عرصے تک اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق سالال، تلبل، بگلیہار، کشن گنگا، رتلے اور پاکل دل جیسے بڑے منصوبے بھی اسی نوعیت کے اعتراضات کی زد میں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاہدے کی پاسداری کے بجائے بھارت کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پیدا کرنے کے لیے معاہدے کی دفعات کا مسلسل استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں تنازعات کے حل کا جو نظام حقیقی اختلافات کے حل کے لیے وضع کیا گیا تھا، پاکستان نے اسے بھارتی منصوبوں میں تاخیر کا ذریعہ بنا دیا اور معمولی تکنیکی معاملات کو بھی بار بار تیسرے فریق کے فورمز تک لے جا کر تنازعات کو طول دیا۔










