عالمی معیار کی ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر زور‘روزگار محکمہ کو بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کی ہدایت
(ڈی آئی پی آر)
سری نگر؍ ۷ جولائی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے او ای سی ایل) کی بحالی اور اسے فعال بنانے کے لیے تیار کردہ روڈ میپ کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بیرونِ ملک بھرتی کے موجودہ نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں جے کے او ای سی ایل کو حکومت کی مرکزی بھرتی ایجنسی کے طور پر فعال بنانے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا تاکہ نوجوانوں کو محفوظ، شفاف اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بیرونِ ملک روزگار فراہم کیا جا سکے۔ اس دوران ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی شراکت داری بڑھانے، عالمی معیار کے مطابق مہارتوں کی تربیت اور نوجوانوں کو بیرونِ ملک ملازمت کیلئے تیار کرنے کے مربوط نظام پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ جموں و کشمیر ہروِندر سنگھ نے اجلاس میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے جے کے او ای سی ایل کو مرحلہ وار فعال بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ اس میں بیرونِ ملک ملازمت کے لیے ڈیجیٹل پورٹل کا قیام، لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں سے اشتراک، غیر ملکی زبانوں اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن پروگراموں کا آغاز، آجر اداروں سے رابطہ، کیریئر کونسلنگ، روانگی سے قبل تربیت اور ملازمت کے بعد معاونت جیسے اقدامات شامل ہیں۔
پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ مجوزہ نظام کے تحت جے کے او ای سی ایل وزارتِ خارجہ، پروٹیکٹر آف امیگریشن، بیرونِ ملک بھارتی مشنز، اسکل ڈیولپمنٹ اداروں اور لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ قائم کرکے قانونی، شفاف اور محفوظ بھرتی کو یقینی بنائے گا۔
اس موقع پر وزارتِ خارجہ کے پروٹیکٹر آف امیگریشن، چندی گڑھ، یشو دیپ سنگھ نے بھی ایک پریزنٹیشن دی، جس میں جموں و کشمیر سے بیرونِ ملک ہجرت کے رجحانات، بیرونِ ملک مقیم افراد کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم، مختلف ممالک میں دستیاب روزگار کے مواقع اور عالمی منڈی میں مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی طلب پر روشنی ڈالی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں عوامی آگاہی کی کمی، قانونی ذرائع سے متعلق محدود معلومات، غیر مصدقہ سوشل میڈیا اطلاعات پر انحصار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مہارتوں کی کمی اہم چیلنجز ہیں۔
تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھیجنا نہیں بلکہ انہیں عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا’’ہمیں صرف لوگوں کو بیرونِ ملک نہیں بھیجنا، بلکہ ہنرمند افراد کو بھیجنا ہے۔ ہماری پوری توجہ مہارتوں کی ترقی پر ہونی چاہیے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ تمام تجاویز پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کا واضح منصوبہ تیار کیا جائے اور انہیں قابلِ عمل اقدامات کی شکل دی جائے۔ انہوں نے کیرالہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں کے کامیاب ماڈلز سے استفادہ کرنے کی بھی ہدایت دی، جہاں بیرونِ ملک روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے مؤثر ادارہ جاتی نظام قائم کیے گئے ہیں۔
عمرعبداللہ نے مزید ہدایت دی کہ آئندہ صنعتی پالیسی میں اسکل ڈیولپمنٹ اور تربیتی اداروں کے قیام کی گنجائش رکھی جائے تاکہ عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو بھی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت اور مہارتوں کی ترقی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔










