ایجنسیاں
سری نگر/ ۷ جولائی
جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں میں کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے دو مقامی دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جاری آپریشن منگل کو چوتھے روز میں داخل ہو گیا۔ حکام کے مطابق رات بھر کے وقفے کے بعد سیکورٹی فورسز نے صبح سویرے دوبارہ تلاشی کارروائی شروع کر دی۔
حکام نے بتایا کہ رات کے وقت سرچ آپریشن معطل کر دیا گیا تھا، تاہم دن نکلتے ہی تلاشی مہم دوبارہ شروع کی گئی۔ دونوں دہشت گرد پہلی مرتبہ ۳ جولائی کو میمندر علاقے کے ایک گھنے باغ میں نگرانی کے کیمروں میں نظر آئے تھے۔ یہ علاقہ سات دیہات پر مشتمل ہے۔
فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی متعدد ٹیموں پر مشتمل مشترکہ دستہ علاقے کا سخت محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ پیر کی شام تک سیکورٹی فورسز چار دیہات کی تلاشی مکمل کر چکی تھیں۔
حکام کے مطابق محصور دہشت گردوں کی شناخت لطیف اور ذاکر کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب فوجی اہلکار ان کے قریب پہنچے تو دونوں نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
فوج کی انسدادِ شورش میں مہارت رکھنے والی وکٹر فورس نے گھنے باغات کے درمیان دہشت گردوں کے فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کرنے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے ہیں، جبکہ علاقے کو رات کے وقت روشن کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں درختوں کی گھنی شاخیں قدرتی پردے کا کام کرتی ہیں، جس سے نگرانی مشکل ہو جاتی ہے اور محصور دہشت گرد اندھے مقامات کا فائدہ اٹھا کر سیکورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
سیکورٹی ریکارڈ کے مطابق دونوں دہشت گرد جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے رہنے والے ہیں۔ ذاکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ۲۰۲۴ سے لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہے، جبکہ لطیف گزشتہ سال اس تنظیم میں شامل ہوا تھا۔
حکام نے کہا کہ شوپیاں تاریخی طور پر جنوبی کشمیر کو وسطی کشمیر اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے سے جوڑنے والی ایک اہم راہداری رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں حملوں کے لیے غیر ملکی دہشت گردوں کا استعمال بڑھا ہے، تاہم لطیف اور ذاکر جیسے مقامی دہشت گردوں کو قابو میں لانا بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے دہشت گردوں کے رسدی نیٹ ورک کو کمزور کرنے اور مقامی سطح پر نئی بھرتیوں کے سلسلے کو توڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔










