تہران، 3 جولائی (یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے کئی ماہ بعد ملک میں ان کی سرکاری تدفین کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تقریب ایران کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی سرکاری آخری رسومات میں شمار ہو سکتی ہے۔
ایران کے سیاسی، عسکری اور مذہبی اداروں پر 37 برس تک اعلیٰ ترین اختیار رکھنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای (86) 28 فروری کو تہران میں اپنی رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملوں کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔
ابتدائی طور پر مارچ میں منعقد ہونے والی یہ آخری رسومات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے باعث متعدد مرتبہ ملتوی کی گئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ تاخیر ناگزیر تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو مذہبی تقاضوں کے مطابق محفوظ رکھا گیا تھا۔
3 جولائی سے شروع ہونے والی یہ تقریبات 9 جولائی تک جاری رہیں گی اور ایران و عراق کے پانچ شہروں میں منعقد کی جائیں گی، جہاں حکام کو توقع ہے کہ تقریباً دو کروڑ سوگوار ان میں شرکت کریں گے۔
ایران کی تاریخ کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیے جانے والے آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے 100 سے زائد ممالک کے نمائندہ وفود کی شرکت بھی متوقع ہے۔
تہران میں سرکاری سوگ کی تقریبات کا آغاز ملک کے اہم ترین مذہبی اور سرکاری مقامات میں سے ایک گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں غیر ملکی معزز شخصیات کی موجودگی میں منعقدہ تقریب سے ہوا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو اس مقدس پرچم سے ڈھانپا گیا ہے جو کبھی امام حسینؑ کے روضۂ مبارک پر لہرایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا خاندان اپنا نسب امام حسینؑ سے جوڑتا ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ کے مطابق سفید حروف والا یہ سرخ پرچم "مزاحمت، قربانی اور حق کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کی علامت” ہے۔
تہران میں عوامی آخری رسومات 4 اور 5 جولائی کو ادا کی جائیں گی، جب آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو ان کے خاندان کے متعدد افراد کے تابوتوں کے ساتھ عوامی دیدار اور خراجِ عقیدت کے لیے رکھا جائے گا۔










