واشنگٹن، 22 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ شامی صدر احمد الشرع لبنانی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں عمارتیں تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا، حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے مایوس کیا۔ صدر نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ شام کے صدر احمد الشرع جنوبی لبنان میں داخل ہو کر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے چیف فارن کورسپانڈنٹ ٹری ینگسٹ کے ساتھ 20 منٹ کی خصوصی ٹیلیفونک گفتگو میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو سخت انتباہ جاری کیا، ساتھ ہی حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر کھل کر تنقید بھی کی۔
واضح رہے کہ اس انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز کسی صورت بند نہ کرنے کی وارننگ دی تھی اور کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، ایرانی مذاکرات کار اپنے ملک واپس نہیں جا سکیں گے۔ جب وہ اس انٹرویو میں، حزب اللہ کے ہاتھوں 5 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر، ایران کو دھمکا رہے تھے، تب ان کے نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
چیف فارن کورسپانڈنٹ نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن کے لیے ایک متوازی سفارتی راستے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے محصولات کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب تک کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد نہ کیے جائیں۔ دوسری طرف شامی صدر احمد الشرع نے اتوار کے روز لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد کر دیا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت علاقائی عدم استحکام کا باعث بننا اور نیوکلیئر پروگرام چھوڑ دے تو پھر امریکہ ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات بنائے گا۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم سفارتکاری کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں تبدیلی لانا چاہتے ہيں، ایسا مستقبل دیکھ رہے ہيں جہاں سب کے لیے امن و خوشحالی ہوگی۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے بعد اب ہمیں آگے بڑھنا ہے ، اسلام آباد ڈائيلاگ سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایران اور امریکا نے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے ہوں۔
سوئٹرز لینڈ میں پاکستان کی ثالثی میں ایران سے مذاکرات کے آغاز پر جے ڈی وینس نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ نے نئی شروعات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ایرانی عوام سے تعلقات بہتر بنائيں، بحران کے خاتمے، امن و ترقی کی شروعات کے لیے اہم دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی قیادت علاقائی عدم استحکام کا باعث بننا اور نیوکلیئر پروگرام چھوڑ دے تو پھر امریکہ ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات بنائے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر نے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور کہاکہ اگرفیلڈ مارشل کی حکمت عملی نہ ہوتی تو شاید ہم یہاں نہ ہوتے، فیلڈ مارشل ایک عظیم ملٹری لیڈر ہیں، فیلڈ مارشل نے اپنے آپ کو ایک بہترین سفارتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔









