نئی دہلی، 13 جون (یو این آئی) سابق ہندوستانی ٹینس اسٹار لیئنڈر پیس نے کہا ہے کہ ان کا مقصد صرف سیاست کرنا نہیں بلکہ ملک میں کھیلوں کے نظام کو زمینی سطح سے تبدیل کرنا ہے۔حال ہی میں سیاست میں آنے والے اولمپک تمغہ یافتہ لیئنڈر پیس نے این ڈی ٹی وی اگنائٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مرحوم والد کے خواب کو پورا کرنے کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔ ان کا ہدف کھیلوں کے شعبے میں بنیادی سطح پر اصلاحات لانا اور کھیلوں کے ذریعے ملک کے 50 کروڑ بچوں کو بااختیار بنانا ہے۔
18 گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیتنے والے لیئنڈر پیس نے کہا کہ اپنے طویل کیریئر اور سات اولمپکس میں شرکت کے بعد وہ آرام کی زندگی گزار سکتے تھے، لیکن ان کے والد کے دو خواب، یعنی ’’50 کروڑ بچوں کو کھیلوں سے جوڑنا‘‘ اور ’’کھیلوں کی تعلیم کو مضبوط بنانا‘‘ انہیں سیاست میں لے آئے۔
سیاست میں آنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کے سوال پر لیئنڈر پیس نے کہا کہ وہ ہمیشہ ڈبلز کے کھلاڑی رہے ہیں اور ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہندوستان کی سیاست میں مجھے مسٹر نریندر مودی اور امت شاہ سے بہتر ڈبلز جوڑی نظر نہیں آتی۔ دونوں کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور اعتماد موجود ہے۔
لیئنڈر پیس نے کہا کہ موجودہ کھیلوں کا نظام پرانا ہو چکا ہے اور اب کھیلوں میں سائنسی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کھلاڑیوں کی بائیں کلائی دائیں کلائی کے مقابلے میں 0.3 ملی میٹر لمبی ہوتی ہے، جس سے انہیں بایو مکینیکل برتری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جان میک اینرو اور گوران ایوانیسووچ کی کامیابی میں بھی یہ ایک اہم عنصر تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان مؤثر تال میل ضروری ہے۔
انہوں نے بنگال ٹینس ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے اپنے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف ریاستی کھیل تنظیموں کا آڈٹ، بین الاقوامی کوچنگ کی فراہمی اور کھیلو انڈیا کے ذریعے دیہی علاقوں سے ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے کلنگا انسٹی ٹیوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک لاکھ بچے تربیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ ادارہ اب تک 24 اولمپین اور 17 پیرا اولمپین پیدا کر چکا ہے۔
مغربی بنگال کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیئنڈر پیس نے کہا کہ قانون و انتظام، خواتین اور بچوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیحات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگال کی معاشی ترقی کے لیے ٹاٹا گروپ اور مہندرا گروپ جیسی بڑی صنعتوں کو واپس لانا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے لیے ممبئی، دہلی یا بنگلورو کا رخ نہ کرنا پڑے۔







