مظاہرین کا پاکستان پر جبر و تشدد کا الزام، عالمی برادری سے مداخلت اور اسے بے نقاب کرنے کا مطالبہ
ایجنسیز
جموں؍۱۳جون
پاکستان کے زیرِقبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) سے بے دخل ہونے والے افراد نے آج جموں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے پی او جے کے میں شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں کی مذمت کی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے اقدامات کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔
مظاہرین، جن میں بی جے پی پی او جے کے ریفیوجی سیل کے ارکان اور ایس او ایس انٹرنیشنل کے کارکن شامل تھے، نے سرحد پار مبینہ جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے وہاں کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
رپورٹوں کے مطابق، پی او جے کے میں جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر حالیہ پابندی کے خلاف احتجاج کے بعد پولیس کارروائی میں۲۰سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ مذکورہ کمیٹی سستی بجلی، آٹے کی فراہمی اور مقامی آبادی کے سیاسی و معاشی حقوق کی بحالی کے مطالبات کر رہی تھی۔
سریندر سنگھ گلی کی قیادت میں بی جے پی کارکن جموں پریس کلب میں جمع ہوئے اور بعد ازاں توی پل کے نزدیک مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے تک مارچ کیا، جہاں پاکستان مخالف نعرے بازی کی گئی۔
سریندر سنگھ گلی نے کہا کہ پی او جے کے کے عوام اپنے بنیادی حقوق اور سہولیات کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، لیکن ان کے پرامن احتجاج کا جواب گولیوں سے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا’’ہم وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کے اقدامات کو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔ پی او جے کے کے لوگ ہندوستانی ہیں اور ہم ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں‘‘۔
دوسری جانب ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی نے بخشی نگر میں الگ احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔
راجیو چونی نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں پی او جے کے کو ملک کا اٹوٹ حصہ قرار دیا گیا ہے اور موجودہ صورتحال اس مؤقف کو عملی شکل دینے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا’’بھارت کو وہاں جبر اور تشدد کا سامنا کرنے والے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عالمی برادری کو ان پیش رفتوں کا نوٹس لینا چاہیے‘‘۔
واضح رہے کہ۱۹۴۷‘۱۹۶۵؍اور۱۹۷۱کی جنگوں کے دوران لاکھوں افراد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے لائن آف کنٹرول عبور کر کے ہندوستان آئے تھے، جنہیں بعد میں پی او کے بے گھر افراد قرار دیا گیا۔
ادھر بی جے پی رہنما جہانزیب سروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے لائن آف کنٹرول کے اُس پار رہنے والے لوگوں کے حق میں مزید مؤثر سیاسی، سفارتی اور انسانی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
اپنے خط میں سروال نے کہا کہ اگرچہ بھارت مسلسل پی او جے کے کے حوالے سے اپنا اصولی مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم موجودہ حالات زیادہ فعال اور نمایاں اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے لکھا’’ان لوگوں کے ساتھ ہماری وابستگی محض بیانات، قراردادوں یا علامتی اقدامات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا جائے کہ بھارت ان لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے جنہیں ہم ہمیشہ اپنا سمجھتے آئے ہیں۔‘‘










