جمعرات, جون 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-11
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جبر، بے چینی اور ناکام حکمرانی کا عکس

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر (پی او کے) میں ایک بار پھر عوامی بے چینی، احتجاج اور ریاستی جبر کی خبریں عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ رواں ہفتے رونما ہونے والے واقعات نے نہ صرف خطے کی سیاسی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس مسئلے کو برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا دیا ہے، جہاں درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ نے انسانی حقوق، سیاسی نمائندگی اور شہری آزادیوں سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ

زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو

عوام انڈیا بلاک کو کیوں سنجیدہ لیں؟

یہ بحران چند احتجاجی مظاہروں یا انتظامی فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا مظہر ہے جو دہائیوں سے عوامی خواہشات اور جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرتا آیا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی(جے اے اے سی) کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن نے یہ سوال ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ آخر پاکستان کے قبضہ انتظام کشمیر کے عوام کو حقیقی سیاسی خودمختاری اور نمائندگی کب ملے گی؟

ابتدائی طور پر جے اے اے سی ایک عوامی اور معاشی تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی۔ مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور آئینی مطالبات کی جانب بڑھتی گئی۔ خاص طور پر قانون ساز اسمبلی میں موجود بارہ مخصوص نشستوں کے خلاف عوامی ردِعمل نے اس تحریک کو نئی طاقت بخشی۔ ان نشستوں کے بارے میں ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کے ذریعے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مظفرآباد کی سیاست پر غیر متناسب اثر و رسوخ برقرار رکھتی ہیں۔

ایک جمہوری معاشرے میں ایسے مطالبات پر بحث، مکالمہ اور پارلیمانی غور و فکر ہونا چاہیے تھا۔ مگر افسوس کہ ریاستی اداروں نے مکالمے کی بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا۔ پانچ جون کوجے اے اے سی کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ممنوعہ تنظیم قرار دینا اور اس کے درجنوں رہنماؤں کو دہشت گردی سے منسلک افراد کی فہرست میں شامل کرنا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہی تنظیم ماضی میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی، تحریری معاہدے کرتی رہی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ریاستی اداروں سے رابطے میں رہی تو پھر اچانک اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا عوامی حمایت حاصل کر لینے والی ہر تحریک کو ریاستی خطرہ سمجھ لیا جائے گا؟

حالیہ واقعات میں سب سے تشویشناک پہلو وہ جانی نقصان ہے جو احتجاج اور کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آیا۔ متعدد شہریوں کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے پورے خطے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اگرچہ حکام نے مظاہرین پر تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے ہیں، لیکن احتجاجی قیادت اور مقامی آبادی کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایسے حالات میں آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہی حقیقت کو سامنے لا سکتی ہیں، مگر انٹرنیٹ بندشوں اور اطلاعاتی پابندیوں نے اس عمل کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔

پاکستانی حکومت کا ایک اور متنازع قدم موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی تھا۔ جدید دور میں مواصلاتی ذرائع کی بندش اکثر اس تاثر کو جنم دیتی ہے کہ ریاست حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔ اگر حکومت اپنے مؤقف پر یقین رکھتی ہے تو اسے اطلاعات کے آزادانہ بہاؤ سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ مواصلاتی پابندیاں وقتی طور پر احتجاج کو محدود کر سکتی ہیں، لیکن وہ عوامی ناراضی کو ختم نہیں کر سکتیں۔

حالیہ بحران نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر کا سیاسی نظام بنیادی تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف اسے خودمختار انتظامی اکائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، دوسری طرف اہم سیاسی اور آئینی فیصلوں میں مقامی عوام کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی عوامی تحریک زور پکڑتی ہے تو ریاستی ردِعمل اکثر سیکورٹی کے زاویے سے دیا جاتا ہے، سیاسی زاویے سے نہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے کا زیرِ بحث آنا پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر بھی ایک تشویش ناک پیش رفت ہے۔ پچاس سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے تشویش کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف مقامی نوعیت کا نہیں رہا۔ انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور سیاسی نمائندگی جیسے موضوعات عالمی سطح پر حساس سمجھے جاتے ہیں اور ان پر اٹھنے والے سوالات کسی بھی ریاست کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے اندر سے بھی متعدد صحافیوں، دانشوروں اور سابق حکومتی شخصیات نے سرکاری پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض مبصرین نے نشاندہی کی ہے کہ طاقت کے استعمال سے سیاسی مسائل کبھی حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی مطالبات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جاری بحران دراصل ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔ عوام سیاسی شمولیت، مؤثر نمائندگی اور جوابدہ حکمرانی چاہتے ہیں۔ اگر ان مطالبات کو محض سیکورٹی خطرہ قرار دے کر دبایا گیا تو بے چینی مزید بڑھے گی۔ حکومتوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں، پابندیوں یا گرفتاریوں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پابندیوں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ عوامی نمائندوں، احتجاجی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہی اس بحران کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر پاکستان کے زیرِ  قبضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی یہ بے چینی نہ صرف مقامی استحکام کو متاثر کرے گی بلکہ پاکستان کے جمہوری دعووں اور بین الاقوامی ساکھ پر بھی مزید سوالات کھڑے کرے گی۔

ریاستیں طاقت کے ذریعے خاموشی تو خرید سکتی ہیں، لیکن اعتماد حاصل نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں حالیہ واقعات اسی تلخ حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

موبائل فون !

Next Post

افغان ٹیم سرپرائز دے سکتی ہے، ابھیشیک نائر کا شبھمن گل کو محتاط رہنے کا مشورہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو

2026-06-10
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عوام انڈیا بلاک کو کیوں سنجیدہ لیں؟

2026-06-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کیا ہمارے نجی اسکول بہتر انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟

2026-06-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

2026-06-06
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
Next Post
زخمی کیمرون گرین کی جگہ لابوشین آسٹریلیائی ٹیم میں شامل

افغان ٹیم سرپرائز دے سکتی ہے، ابھیشیک نائر کا شبھمن گل کو محتاط رہنے کا مشورہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.