۶۸۰۰ کروڑ روپے کی لاگت سے بننےو الی ٹنل فروری ۲۰۲۸ میں مکمل ہو گی ‘ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ۱۵ منٹوں میں طے ہو گا
منی مرگ؍۹جون
کشمیر وادی کو لداخ سے جوڑنے والی زوجیلا ٹنل کی تعمیر میں منگل کو ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا، جب ایک دھماکے کے ذریعے سرنگ کے آخری۲ء۵میٹر حصے کو بھی کامیابی کے ساتھ توڑ دیا گیا۔
اس کامیابی کے ساتھ دنیا کی طویل ترین سنگل ٹیوب دو طرفہ ٹنل کے دونوں سِرے آپس میں جڑ گئے ہیں، جس سے زوجیلا درے کو عبور کرنے کا سفر ڈیڑھ گھنٹے سے کم ہو کر صرف۱۵منٹ رہ جائے گا۔
حکام کے مطابق’’سرنگ کے آخری۲ء۵میٹر حصے میں کامیاب بریک تھرو حاصل کر لیا گیا ہے‘‘۔
اس پیش رفت کے ساتھ کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کے کئی دہائیوں پرانے خواب کی تعبیر مزید قریب آ گئی ہے۔ مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری نے لداخ کے منی مرگ میں واقع سرنگ کے مشرقی دہانے پر ریموٹ بٹن دبا کر دھماکے کا آغاز کیا۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے حکام نے بتایا کہ یہ بریک تھرو مقررہ وقت سے تقریباً چھ ماہ پہلے حاصل کیا گیا ہے۔
۶۸۰۰ کروڑ روپے لاگت کےمنصوبے کے اتھارٹی انجینئر یوسف اسحاق پور رحیم آبادی نے بتایا کہ مجموعی کام کا تقریباً۸۵فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق سرنگ کو فروری۲۰۲۸ تک عوام کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔ بریک تھرو کے بعد سول تعمیراتی کاموں میں مزید سات سے آٹھ ماہ لگیں گے، جس کے بعد برقیاتی اور دیگر تکنیکی تنصیبات کا مرحلہ شروع ہوگا۔
۱۳ء۱۵۳ کلومیٹر طویل‘۹ء۵میٹر چوڑی اور۷ء۵۷میٹر بلند یہ گھوڑے کی نعل نما سنگل ٹیوب سرنگ سطح سمندر سے تقریباً۱۱ہزار۵۷۸ فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جا رہی ہے۔
سرینگر،لیہہ قومی شاہراہ پر واقع یہ تزویراتی اہمیت کی حامل سرنگ لداخ کو سال بھر ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گی اور سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی لائے گی۔
گاندربل ضلع کے بالتل سے شروع ہو کر لداخ کے دراس ضلع کے منی مارگ تک جانے والی اس سرنگ کے ساتھ۱۸کلومیٹر طویل رابطہ سڑک بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔
منصوبے پر عمل درآمد کرنے والی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ نے ہمالیہ کے نازک جغرافیائی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے’نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ‘ کا استعمال کیا۔
رابطہ سڑکوں اور پلوں سمیت اس پورے منصوبے کی مجموعی لمبائی۳۱کلومیٹر ہے، جو سونہ مرگ سے منی مارگ تک پھیلی ہوئی ہے۔
سرنگ کے فعال ہونے کے بعد زوجیلا درہ، جو شدید برفباری کے باعث ہر سال تقریباً تین ماہ تک بند رہتا ہے، سال بھر ٹریفک کے لیے کھلا رہے گا، جس سے شہری اور فوجی نقل و حرکت دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔
مرکزی وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہوں نے ایک بیان میں کہا’’زوجیلا ٹنل بھارت کے سب سے مشکل بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں میں سے ایک ہے، جو ہمالیہ کی بلندیوں میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور نتن گڈکری کی رہنمائی میں بھارتی انجینئروں نے چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کر دیا ہے‘‘۔
حکام کے مطابق یہ سرنگ نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت اور علاقائی ترقی کو فروغ دے گی بلکہ زوجیلا درے پر آمدورفت کے مسائل کا مستقل حل بھی فراہم کرے گی، جو ہر سال شدید برفباری، برفانی تودوں اور خراب موسمی حالات کے باعث کئی ماہ تک بند رہتا ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نتن گڈکری سے کرگل کے لیے براہِ راست فضائی رابطے کے قیام میں مدد کرنے کی اپیل کی۔
بریک تھرو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ لداخ کے عوام کا ہر موسم میں رابطے کا خواب پورا ہونے کے قریب ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں لداخ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور نتن گڈکری اور ان کی وزارت کے افسران کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس پیش رفت نے ہمیں ہر موسم میں رابطے کے خواب سے مزید قریب کر دیا ہے‘‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام کا ایک اور اہم خواب ابھی تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا، اور وہ کرگل کے لیے باقاعدہ اور براہِ راست فضائی سروس کا قیام ہے۔’’میں نے خود بھی اس سلسلے میں کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ یہ کرگل کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے‘‘۔
گڈکری سے مخاطب ہوتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’آپ ایک متحرک شخصیت ہیں اور کام کر کے دکھانے والے رہنما ہیں، اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس خواہش کو بھی حقیقت کا روپ دلانے میں مدد کریں۔ بہتر فضائی اور سڑک رابطہ پورے خطے کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اس منصوبے کا خواب کئی لوگوں نے دیکھا تھا لیکن وہ اسے حقیقت بنتے نہیں دیکھ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ زوجیلا سرنگ کے مکمل ہونے سے تعلیم، صحت، سیاحت، تجارت اور کاروبار سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔
’’دہائیوں تک اس خطے کے لوگوں کو سردیوں میں زوجیلا درہ بند ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سرنگ عوام کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائے گی‘‘۔ عمر عبداللہ نے کہا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ کام بھی جلد مکمل ہوگا تاکہ سرنگ کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔










