سرحدی علاقوں میں بھارت کی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوطی اورہنگامی حالات میں ردعمل کی رفتار بڑھانے میں مدد ملی گی
(ویب ڈیسک)
سری نگر/۹جون
ایشیا کے اہم ترین بنیادی ڈھانچہ منصوبوں میں شمار ہونے والی زوجیلا ٹنل نے منگل کے روز ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا جب سرنگ کے دونوں سروں کو جوڑنے کے لیے آخری چٹان کو دھماکے سے ہٹا کر ’’فائنل بریک تھرو‘‘ حاصل کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ اکتوبر۲۰۲۰ میں شروع ہونے والا سرنگ کھودنے کا مرحلہ مکمل ہو گیا، جسے بھارت کی انفراسٹرکچر تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سمندر کی سطح سے ۱۱ہزار۵۷۸ فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جا رہی۱۳ء۱۵ کلومیٹر طویل زوجیلا ٹنل دنیا کی سب سے لمبی سنگل ٹیوب، دو طرفہ سڑک سرنگ ہوگی۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد لداخ کو سال بھر کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی ایک محفوظ اور ہر موسم میں قابلِ استعمال راہداری میسر آئے گی۔
فائنل بریک تھرو تقریب میں مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
لداخ کے عوام کئی دہائیوں سے ایسی مستقل سڑک رابطہ سہولت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جو سخت سردیوں میں بھی کھلی رہے۔ ہر سال شدید برفباری کے باعث زوجیلا پاس تقریباً چھ ماہ تک بند رہتا ہے، جس کے نتیجے میں لداخ کا کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
زوجیلا ٹنل اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل فراہم کرے گی۔ اس کے ذریعے سری نگر، دراس، کرگل اور لیہ کے درمیان۳۶۵ دن آمد و رفت ممکن ہوگی۔ اس سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ اشیائے ضروریہ، طبی سہولیات اور تجارتی سرگرمیوں کی فراہمی بھی متاثر نہیں ہوگی۔
لداخ حج کمیٹی کے چیئرمین غلام عباس عابدی کے مطابق اس منصوبے سے کرگل اور سری نگر کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے سے کم ہو کر تین گھنٹے رہ جائے گا، جس سے عوامی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔
زوجیلا ٹنل صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ بھارت کے لیے غیر معمولی تزویراتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ سرنگ بھارتی فوج کو ہر موسم میں تیز رفتار رسائی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی۔
فی الحال برفباری کے دوران زوجیلا پاس بند ہونے سے فوجی نقل و حرکت اور سامان کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، لیکن سرنگ مکمل ہونے کے بعد فوجی دستوں، ہتھیاروں، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی منتقلی سال بھر بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ سرحدی علاقوں میں بھارت کی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گا اور ہنگامی حالات میں ردعمل کی رفتار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
زوجیلا ٹنل کی تعمیر نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کر رہی ہے۔ تقریباً۶۸۰۹ء۷کروڑ روپے لاگت کے اس منصوبے میں سرنگ کے دونوں اطراف۱۷ کلومیٹر طویل اپروچ سڑکیں بھی شامل ہیں۔
سرنگ کی تعمیر کے لیے ’نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ‘ استعمال کیا گیا ہے، جو ہمالیائی خطے کی نازک اور غیر مستحکم ارضیاتی ساخت کے لیے موزوں ترین تکنیک سمجھی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں مسلسل نگرانی، مرحلہ وار کھدائی اور فوری حفاظتی اقدامات کے ذریعے تعمیراتی کام کو محفوظ اور مؤثر بنایا جاتا ہے۔
زوجیلا پاس کو ’برفانی طوفانوں کا پہاڑی در‘ بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ سڑک راستے پر ہر سال برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور حادثات کے باعث متعدد جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نئی سرنگ ان خطرات کو نمایاں طور پر کم کرے گی اور محفوظ سفر کو یقینی بنائے گی۔
زوجیلا ٹنل حکومت ہند کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ میں مجموعی طور پر۳۱ سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں۲۰ جموں و کشمیر اور۱۱؍لداخ میں واقع ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں رابطہ کاری کو بہتر بنانا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
زوجیلا ٹنل کے مکمل فعال ہونے کے بعد لداخ کی جغرافیائی تنہائی بڑی حد تک ختم ہو جائے گی اور یہ منصوبہ خطے کی معیشت، سیاحت، تجارت اور دفاعی تیاریوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا










