ٹنل قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے بھی انتہائی اہم ہے :ایل جی سنہا
ایجنسیز
سرینگر؍۹جون
مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری نے منگل کو زوجیلا ٹنل میں حاصل ہونے والی تاریخی پیش رفت کو بھارت کی انفراسٹرکچر تاریخ کا ’’سنہری باب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ لداخ اور جموں و کشمیر کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگا اور سال بھر رابطے کو یقینی بنائے گا۔
تقریب کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ تقریباً۱۴کلومیٹر طویل زوجیلا ٹنل ملک کے اہم ترین بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں میں شامل ہے، جسے دشوار گزار جغرافیائی حالات اور سخت موسمی چیلنجوں کے باوجود عالمی معیار کے حفاظتی اصولوں کے مطابق تعمیر کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر نے منصوبے سے وابستہ انجینئروں، مزدوروں اور مختلف اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تقریباً۳ہزار میٹر کی بلندی اور نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت میں تعمیراتی کام انجام دینا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں کام کرنے والے تقریباً۸۰فیصد کارکن مقامی افراد ہیں۔
گڈکری نے کہا کہ۲۰۱۴کے بعد اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا، جبکہ اس سے قبل کئی مرتبہ ٹینڈرز جاری ہونے کے باوجود منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اسے ابتدائی تخمینے سے کم لاگت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ زوجیلا ٹنل سیاحت، تجارت، معاشی سرگرمیوں اور سرحدی علاقوں میں دفاعی نقل و حرکت کو فروغ دے گی اور کشمیر و لداخ کے درمیان بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کرے گی۔
مرکزی وزیر نے لداخ کے لیے متعدد نئے بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔ ان میں ایک ہزار کروڑ روپے لاگت کا لیہہ ساؤتھ بائی پاس (۴۸ کلومیٹر) اور۲۰۰ کروڑ روپے لاگت کا لیہہ نارتھ بائی پاس(۷ء۶ کلومیٹر) شامل ہیں، جن کا مقصد ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور رابطہ بہتر بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ۱۲۰۰ کروڑ روپے لاگت کے فاتو لا ٹوئن ٹیوب ٹنل منصوبے (۲ء۶کلومیٹر) پر آئندہ تین ماہ کے اندر کام شروع کر دیا جائے گا۔
اسی طرح۳۵۰۰کروڑ روپے مالیت کے تیلا پاس ٹنل منصوبے کی تفصیلی منصوبہ رپورٹ آخری مرحلے میں ہے اور آئندہ سال مارچ سے قبل اس کے ٹھیکے جاری کیے جانے کا امکان ہے۔گڈکری نے مزید کہا کہ سری نگر-گمری سڑک کو بھی چوڑا اور جدید بنایا جائے گا تاکہ زوجیلا ٹنل کے ساتھ مل کر رابطے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہمالیائی خطے میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور دور دراز سرحدی علاقوں تک سال بھر رسائی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زوجیلا ٹنل میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو ایک ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطے کو یقینی بنائے گا اور سرحدی علاقوں میں اقتصادی ترقی، سیاحت اور قومی سلامتی کو نئی تقویت دے گا۔
زوجیلا کے مشرقی دہانے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کو مبارکباد پیش کی اور منصوبے پر کام کرنے والے انجینئروں، سائنس دانوں اور مزدوروں کی خدمات کو سراہا۔
ایل جی نے کہا’’میں لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام اور اس منصوبے سے وابستہ تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے سخت موسمی حالات میں انتھک محنت کی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بہتر سڑک، فضائی اور ریلوے رابطوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی کو نئی رفتار دی ہے اور وہ علاقے جو ماضی میں نظرانداز ہوتے تھے، اب ترقیاتی منصوبوں کا مرکز بن چکے ہیں۔
ایل جی نے نتن گڈکری اور ان کی وزارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں جاری بڑے انفراسٹرکچر منصوبے سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو نمایاں فروغ دیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ زوجیلا ٹنل نہ صرف عوامی سہولت کا منصوبہ ہے بلکہ قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے حساس سرحدی علاقوں میں سال بھر بلا تعطل آمدورفت ممکن ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبہ جلد مکمل ہو کر عوام کے نام وقف کیا جائے گا، جو طویل عرصے سے قابلِ اعتماد رابطے کے منتظر ہیں۔
سنہا نے۳ جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر رابطہ زائرین کے لیے بھی بڑی سہولت فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ زوجیلا ٹنل بھارت کے اہم تزویراتی بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے، جس کا مقصد سری نگر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطہ برقرار رکھنا ہے۔ زوجیلا درہ شدید برفباری کے باعث ہر سال سردیوں میں کئی ماہ تک بند رہتا ہے، جس سے لداخ کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










