ایل جی کی کشتواڑ میں پد یاترا کی قیادت‘منشیات اور نارکو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ
’ منشیات کیخلاف جنگ ایک طویل مدتی جدوجہد ‘جس میں مسلسل، شبانہ روز کوششوں اور اجتماعی شرکت کی ضرورت ہے‘
جموں؍۶جون
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے ہفتے کے روز کشتواڑ میں ایک بڑی پدیاترا کی قیادت کی، جہاں جاری ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم اپنے۱۹ویں ضلع تک پہنچ گئی۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات کے استعمال اور نارکو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ ایک طویل مدتی جدوجہد ہے، جس میں مسلسل، شبانہ روز کوششوں اور اجتماعی شرکت کی ضرورت ہے۔
سنہا نے کہا کہ انتظامیہ منشیات کے کاروبار کی زنجیر کو ہر سطح پر توڑ رہی ہے اور منشیات اسمگلروں و نارکو دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ایل جی نے کہا ’’ہم منشیات کے کاروبار کی ہر کڑی کو توڑ رہے ہیں۔ چاہے وہ سرحد پار اسمگلر ہوں، مقامی منشیات فروش ہوں یا دہشت گردی کے مالی معاونین، کسی کے لیے بھی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔ ہماری ایجنسیاں ہر نارکو دہشت گرد کا تعاقب کر رہی ہیں اور ان کے نیٹ ورکس کو مستقل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ گزشتہ۵۶دنوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس مہم میں شرکت کی، متاثرہ خاندانوں کے درد کو محسوس کیا اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کی ترغیب دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس مہم کا مقصد منشیات کے استعمال کے خلاف عوامی سطح پر مزاحمت پیدا کرنا اور نارکو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
۱۱؍اپریل کو مہم کا آغاز کرنے والے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اب تک یہ مہم جموں و کشمیر کے۱۹؍اضلاع تک پہنچ چکی ہے اور دیہات و قصبوں کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’گزشتہ۵۶دنوں سے میرا ایک ہی مشن ہے کہ اس سرزمین سے ہر منشیات اسمگلر اور نارکو دہشت گرد کا خاتمہ کیا جائے۔ پلوامہ ہو یا رام بن، کولگام ہو یا کیشتواڑ، منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔‘‘
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نارکو دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، تاہم نشے سے نجات حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو مکمل مدد اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ایل جی نے کہا، ’’جو لوگ نشے کی لعنت سے نکل کر معمول کی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں، انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے اور عزت و وقار کے ساتھ معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لایا جا رہا ہے۔ لیکن ان نارکو دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی جو دوسروں کی تباہی سے منافع کماتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۱۰۰روزہ ’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘ مہم دراصل ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کا آغاز ہے۔
سنہا نے کہا، ’’یہ چند ہفتوں کی نہیں بلکہ کئی برسوں کی جنگ ہے۔ کامیابی کے لیے پوری سوسائٹی کی مشترکہ اور مسلسل کوششیں درکار ہیں۔ ہم اجتماعی عوامی شمولیت کے ذریعے جموں و کشمیر کی سرزمین کو منشیات اسمگلروں اور فروشوں سے مکمل طور پر پاک کریں گے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے منشیات کے خلاف جدوجہد اور منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کشتواڑ کی ’’مقدس سرزمین‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب اس کے لوگ منشیات کے خلاف متحد ہو کر امید، مثبت تبدیلی اور بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ کوششیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہر آواز اہم ہے، ہر اقدام معنی رکھتا ہے اور ہم سب مل کر ایک محفوظ اور صحت مند جموں و کشمیر تشکیل دے سکتے ہیں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ انتظامیہ اس مہم کے جذبے کو عوامی سطح پر فروغ دے رہی ہے تاکہ لوگ نشے کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں اور بروقت مداخلت کر سکیں۔انہوں نے اساتذہ، پنچایت مہیلا سمیتیوں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تمام طبقات نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ عوام نے ایک آواز میں یہ پیغام دیا ہے کہ نارکو دہشت گردوں کو اس سرزمین سے بے دخل کیا جانا چاہیے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ۵۶ دنوں کے دوران منشیات کے خلاف کارروائیوں میں۱۰۲۶؍ایف آئی آر درج کی گئیں‘۱۱۲۸منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا، اسمگلروں سے منسلک۱۰۰ سے زائد جائیدادیں ضبط کی گئیں، تقریباً۷۰۰ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے جبکہ۱۳۰مبینہ منشیات فروشوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔










