مرکز واضح کرے کہ ریاستی درجے کی بحالی کیلئے کون سے پیمانے ہیں ‘واضح وقت بھی طے کرے :وزیر اعلیٰ
(ویب ڈسیک )
سرینگر؍۵جون
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ خطے نے تقریباً تین دہائیوں کی’ملی ٹینسی‘ کے باعث شدید معاشی نقصان اٹھایا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں نے جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری سے گریز کیا۔
’دی ہندو ہڈل‘ پروگرام میں مختلف موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت، وادی کے مسلم نوجوانوں کے بارے میں پائے جانے والے تاثرات، مغربی ایشیا کے تنازعے کے خطے پر اثرات اور دیگر پیچیدہ مسائل پر گفتگو کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ترقی کو دفعہ۳۷۰کی منسوخی سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ ان کے مطابق دونوں معاملات کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم کے وعدے، جسے ’’مودی کا وعدہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے کون سے پیمانے طے کیے گئے ہیں اور اس کے لیے کوئی واضح وقت مقرر کیا جانا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ حد بندی کے بعد انتخابات ہوں گے اور اس کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ مناسب وقت کب آئے گا۔ آخر ہم مناسب وقت کا تعین کیسے کریں؟‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام اب اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں اور حکومت کو اس بارے میں واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔
’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘ (ایک ملک، ایک انتخاب) کے تصور پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارت جیسے متنوع ملک میں اس منصوبے پر عمل درآمد عملی طور پر انتہائی مشکل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے سیاسی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کے باعث ایک ہی وقت میں انتخابات کرانا آسان نہیں ہوگا۔
عمرعبداللہ نے اس تجویز کے حوالے سے علاقائی جماعتوں کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ریاستی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے حکومت گر جائے تو پھر اس نظام کو کس طرح برقرار رکھا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جب تک آپ یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جا سکتی، یا پھر یہ شرط نہیں رکھتے کہ تحریکِ عدم اعتماد کے ساتھ متبادل اکثریت بھی ثابت کی جائے، تب تک اس نظام کو مؤثر بنانا بہت مشکل ہے۔ حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو اتنے متنوع ملک میں، جہاں ریاستی حکومتوں کی مدت ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی، اس تصور کو نافذ کرنا آسان نہیں ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وندھیا پہاڑی سلسلے کے جنوب سے جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد توقع سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت اور فلمی صنعت کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور فلمیں کسی بھی مقام کو عالمی سطح پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’سیاحت اکثر فلموں کے نقشِ قدم پر چلتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس کی مقبولیت میں یش چوپڑا کی فلموں کا بڑا کردار رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جنوبی ہند کی مزید فلمیں کشمیر میں فلمائی جائیں۔ آج کل آپ کی فلمیں بالی ووڈ سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں اور ان کے بجٹ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں جنوبی بھارت کی زیادہ فلموں کی شوٹنگ کشمیر میں ہوگی۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر قدرتی حسن، منفرد مناظر اور جدید سہولیات کے اعتبار سے فلم سازوں کے لیے ایک بہترین مقام ہے اور اس شعبے کے فروغ سے سیاحت اور مقامی معیشت دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔










