’جن کا اس معاملے میں کوئی لوکس اسٹینڈی نہیں انہیں بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے‘
بھارت ان تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جن کے ذریعے پی او جے کے میں پاکستان کے غیر قانونی قبضے کو تقویت دینے:جیسوال
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲جون
بھارت نے یورپی یونین(ای یو) اور پاکستان کے درمیان ہونے والے آٹھویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد جاری مشترکہ پریس اعلامیے میں جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے تذکروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن فریقوں کو اس معاملے میں کوئی ’’لوکس اسٹینڈی‘‘ (قانونی یا اخلاقی حیثیت) حاصل نہیں، انہیں بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت ایسے تمام حوالوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھارت کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں، لہٰذا جن افراد یا اداروں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، انہیں بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔
جیسوال نے کہا’’ہم بھارت کے داخلی معاملات سے متعلق مشترکہ پریس اعلامیے میں شامل ایسے غیر ضروری حوالوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔ جن لوگوں کو اس معاملے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں، انہیں اس پر تبصرہ کرنے سے باز رہنا چاہیے‘‘۔
یہ ردِعمل پیر کے روز پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے تناظر میں سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی وفد نے یورپی یونین کے وفد کو جموں و کشمیر کے مسئلے پر بریفنگ دی، جبکہ یورپی یونین نے پاکستان کو یوکرین جنگ کے بارے میں آگاہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا’’پاکستانی فریق نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بریفنگ دی، جبکہ یورپی یونین کے فریق نے روس اور یوکرین کی جنگ کے بارے میں بریفنگ دی‘‘۔
گزشتہ ماہ بھی بھارت نے چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے تذکروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں اور کسی دوسرے ملک کو اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان سے متعلق سوالات کے جواب میں رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ بھارت کا موقف مستقل اور متعلقہ فریقوں کے لیے بخوبی معلوم ہے۔
ترجمان نے کہا’’بھارت چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے حوالے سے کیے گئے غیر ضروری حوالوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا حصہ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کسی دوسرے ملک کو اس بارے میں تبصرہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں‘‘۔
جیسوال نے مزید کہا کہ بھارت ان تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان کے غیر قانونی قبضے کو تقویت دینے یا اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ان منصوبوں کے حوالے سے جو بھارت کے دعوے کے مطابق اس کی خودمختار سرزمین میں واقع ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا’’جہاں تک نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کا تعلق ہے، جن میں سے بعض بھارت کی خودمختار سرزمین میں واقع ہیں، ہم ایسے تمام اقدامات کی سخت مخالفت اور انہیں مسترد کرتے ہیں جو پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے کو تقویت یا قانونی جواز فراہم کرتے ہیں اور بھارت کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کو متاثر کرتے ہیں‘‘۔
جیسوال نے مزید کہا کہ یہ موقف متعدد بار پاکستانی اور چینی حکام تک پہنچایا جا چکا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے کبھی بھی۱۹۶۳ کے نام نہاد سرحدی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا۔انہوں نے کہا’’ہم نے چین اور پاکستان کے درمیان نام نہاد سرحد پار آبی وسائل کے تعاون کے حوالے سے بھی بیانات دیکھے ہیں۔ چونکہ دونوں ممالک کی کوئی مشترکہ سرحد نہیں، اس لیے ایسے کسی تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت نے۱۹۶۳کے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا‘‘۔
یہ ردِعمل پاکستان کے دفترِ خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں چین کے صدر شی جن پنگ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد کہا گیا تھا کہ پاکستانی فریق نے چینی قیادت کو جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
پاکستانی بیان کے مطابق’’چینی فریق نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخی پس منظر رکھتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔‘‘










