’مرکزی بیس کیمپ انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے ‘
جموں؍ یکم جون
سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر اعلیٰ سول اور پولیس حکام نے پیر کو سیکورٹی اور انتظامی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
۵۷ روزہ یاترا۳؍ جولائی سے شروع ہوگی اور۲۸؍ اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔ یاتری روایتی۴۸ کلومیٹر طویل ننون،پہلگام راستے (ضلع اننت ناگ) اور۱۴ کلومیٹر طویل مگر نسبتاً دشوار بالتل راستے (ضلع گاندربل) کے ذریعے مقدس امرناتھ گپھا کی زیارت کریں گے۔
سرکاری حکام کے مطابق ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) جموں بھیم سین توتی نے بھگوتی نگر بیس کیمپ کا دورہ کرکے یاترا کے لیے جاری تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران رجسٹریشن کاؤنٹروں، آر ایف آئی ڈی مراکز، رہائش، صفائی ستھرائی، طبی سہولیات اور سیکورٹی انتظامات کا معائنہ کیا گیا۔
رمیش کمار نے کہا کہ بھگوتی نگر، جو یاتریوں کا مرکزی بیس کیمپ ہے، میں تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس دورے کا مقصد زمینی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینا اور انتظامات کو آخری شکل دینا تھا۔ رجسٹریشن، آر ایف آئی ڈی خدمات، طبی ڈھانچے اور صفائی کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔‘‘
ڈویژنل کمشنر کے مطابق مختلف محکموں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ تمام کام مقررہ وقت میں مکمل ہوں اور یاترا خوش اسلوبی سے انجام پائے۔
حکام نے بتایا کہ رمیش کمار پہلے ہی۱۰ جون تک متعدد کام مکمل کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں، جن میں کیمپ کی رنگ و روغن، بس ٹکٹ بکنگ کاؤنٹرز کا قیام، لنگر، کلاک روم، رہائشی سہولیات، بیت الخلا، بجلی کی فراہمی اور کیمپ کے اندر و اطراف روشنی کے انتظامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی، لنگر سہولیات، سہولت اسٹور، پری پیڈ سم کارڈز کی فراہمی اور یاتریوں کے لیے جرمن ہینگرز نصب کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز محکمہ کو مکمل فائر سیفٹی آڈٹ کرنے جبکہ محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کو کیمپ اور اطراف کی سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ بجلی کو بلاتعطل بجلی فراہمی، مناسب روشنی اور بیک اپ جنریٹروں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔
دوسری جانب آئی جی پی جموں بھیم سین توتی نے سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے تمام قیام گاہوں پر مناسب روشنی اور یاترا کے مقررہ اوقات کی سختی سے پابندی پر زور دیا۔
انہوں نے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع میں سیکورٹی اور یاتری سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چوکسی برقرار رکھتے ہوئے یاترا روٹ پر نگرانی کو مزید مضبوط بنائیں۔
لکھن پور میں آئی جی پی نے بیس کیمپ، قیام گاہوں اور استقبالیہ مراکز کا معائنہ کیا اور سیکورٹی تعیناتی، سی سی ٹی وی نگرانی، رسائی کنٹرول نظام، تلاشی کے انتظامات، ٹریفک مینجمنٹ اور یاتری سہولیات کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں ڈسٹرکٹ پولیس لائنز کٹھوعہ میں ایک سیکورٹی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جہاں ایس ایس پی کٹھوعہ موہیتا شرما نے نگرانی کے اقدامات، قافلوں کے انتظام، کوئیک ریسپانس ٹیموں کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
آئی جی پی نے سیکورٹی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد اور یاتریوں کے ساتھ پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کی ہدایت دی، جبکہ ڈی آئی جی جموں-سانبہ-کٹھوعہ رینج شری دھر پاٹل نے افسران کو لنگروں اور قیام گاہوں کا باقاعدہ معائنہ کرنے اور مشتبہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی تاکید کی۔
سانبہ ضلع میں ایس ایس پی انوج کمار نے یاترا کی تیاریوں کے بارے میں آئی جی پی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر توتی نے جموں و کشمیر پولیس، مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف)، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے درمیان قریبی تال میل پر زور دیا تاکہ یاترا کو محفوظ اور پُرامن بنایا جا سکے۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ ڈرون نگرانی میں اضافہ کیا جائے، اہم تنصیبات، لنگروں اور قیام گاہوں پر اینٹی سبوتاژ چیکنگ کے لیے ڈاگ اسکواڈ تعینات کیے جائیں اور حقیقی وقت کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔انہیں جموں-پٹھانکوٹ قومی شاہراہ اور سرحدی علاقوں میں چوبیس گھنٹے نگرانی، ناکہ چیکنگ اور گشت کے ذریعے سیکورٹی مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔(ایجنسیاں)










