ایجنسیز
جموں؍۲۵مئی
جموں کشمیر کے ضلع راجوری کے گھنے جنگلات میں چھپے مشتبہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن پیر کے روز مسلسل تیسرے دن میں داخل ہو گیا۔
حکام کے مطابق فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم نے ہفتہ کے روز مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق مخصوص اطلاعات ملنے کے بعد اس علاقے میں آپریشن شروع کیا تھا۔
’آپریشن شیرووالی‘ کے آغاز کے بعد ہفتہ کو دوریمل-گمبھیر موگلہ علاقے میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مختصر جھڑپ بھی ہوئی تھی۔
حکام نے بتایا’’مشتبہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے سخت محاصرے کے درمیان آپریشن جاری ہے جبکہ نگرانی کا نظام بھی فعال رکھا گیا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ڈرونز اور سنفر ڈاگز سے لیس مشترکہ ٹیموں نے تلاش کا دائرہ قریبی علاقوں تک وسیع کر دیا ہے اور اضافی نفری تعینات کرکے محاصرے کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ علاقے میں چھپے مشتبہ دہشت گردوں کو تلاش کیا جا سکے۔
آپریشن کے دوران مشتبہ دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہونے کے بعد فائرنگ کا مختصر تبادلہ بھی ہوا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے جنگلاتی علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں جاری رکھیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں دو سے تین دہشت گردوں کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فوج کی ’وائٹ نائٹ کور‘ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے گمبھیر موگلہ کے عمومی علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ انٹیلی جنس بنیادوں پر مشترکہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا تھا۔










